حکومت اور ایشین بینک کے درمیان موٹرویز کے بڑے منصوبوں پر مشاورت
- آئندہ دو برس کے اندر ٹرانسپورٹیشن اور انفرااسٹرکچر کے کئی اہم منصوبوں کو مکمل کرنے کا عزم رکھتے ہیں، وفاقی وزیر مواصلات
ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے نائب صدر کونسٹنٹین لیمیٹوسکی نے ڈائریکٹر جنرل شیاؤہونگ وانگ کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان بھر میں جاری اور مجوزہ مواصلاتی و انفرااسٹرکچر کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی آئی بی کے ساتھ شراکت داری اور سرمایہ کاری پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اگلے دو برس کے اندر ٹرانسپورٹیشن اور انفرااسٹرکچر کے کئی اہم منصوبوں کو مکمل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے اہم ترین منصوبہ کراچی حیدرآباد اور حیدرآباد سکھر موٹروے ہے، جو ملکی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت اس منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور اسے 2 سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی پورٹ سے منسلک موٹروے کا حصہ 8 لینز جبکہ حیدرآباد-سکھر سیکشن 6 لینز پر مشتمل ہوگا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ لاہور-سیالکوٹ اور کھاریاں-راولپنڈی موٹروے منصوبے بھی اگلے دو سالوں میں مکمل کرنے کے لیے شیڈول کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کا فاصلہ 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا، جس سے سفر کا ایک گھنٹہ بچے گا اور سالانہ اربوں روپے کے ایندھن کی بچت ہوگی۔
وزیر مواصلات نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے تعاون سے موٹرویز پر ایئر ایمبولینس سروس اور جدید ٹروما سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے ایئر چیف مارشل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایئر چیف کی ذاتی دلچسپی ایئر ایمبولینس (ہیلی کاپٹر) سروس کے جلد آغاز کو یقینی بنائے گی۔
وفاقی وزیر نے اے آئی آئی بی کے وفد کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مکمل شدہ منصوبوں کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ اعلامیے کے مطابق اے آئی آئی بی کے وفد نے این ایچ اے کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا،اپنے دورے کو خوشگوار قرار دیا اور تصدیق کی کہ وہ لاہور کا دورہ بھی کریں گے۔


























Comments