غزہ میں اسرائیلی حملہ، حماس کے اعلیٰ عہدیدار کا بیٹا شہید
- عزام خلیل الحیہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے خلیل الحیہ کے سات صاحبزادوں میں سے چوتھے بیٹے ہیں، ذرائع حماس
غزہ کے ایک اسپتال اور حماس نے بتایا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک کے چیف مذاکرات کار کا بیٹا ایک روز قبل اسرائیلی حملے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
غزہ شہر کے الشفاء اسپتال نے ایک بیان میں کہا کہ حماس کے اعلیٰ عہدیدار خلیل الحیہ کے 23 سالہ بیٹے عزام خلیل الحیہ کل ایک اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔
شہر کے الاہلی اسپتال اور ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا تھا کہ غزہ شہر کے محلے الدرج پر شام کے وقت ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص جاں بحق اور عزام خلیل الحیہ سمیت 10 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے کی اے ایف پی کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
حماس کے ایک ذریعے کے مطابق عزام خلیل الحیہ، خلیل الحیہ کے سات بیٹوں میں سے چوتھے بیٹے ہیں جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔ ان کے تیسرے بیٹے ہمام ستمبر میں دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے، جس میں مجموعی طور پر چھ افراد شہید ہوئے تھے۔
خلیل الحیہ قطر میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے باوجود غزہ میں حماس کے سربراہ ہیں اور وہ اس وقت تحریک کی قیادت کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ وہ دوحہ میں ہونے والے حملے میں محفوظ رہے تھے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ عزام خلیل الحیہ کی شہادت مزاحمتی قیادت اور اس کے مذاکراتی وفد پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو قابض فوج کی جانب سے اپنی شرائط مسلط کرنے یا اپنے اعلانیہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کی جا رہی ہیں۔
تاہم غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ اسرائیلی حملے تھمے نہیں ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج اور حماس دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 846 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد تسلیم کرتی ہے۔
























Comments