ایران کا نئی امریکی تجویز پر غور، فریقین کے معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات
- ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران پاکستان کے ذریعے جلد جواب دے گا
ایران نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ باخبر ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران خلیج میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمت نامے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس میں پیچیدہ امور، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے( اسنا ) کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اپنی رائے جلد پاکستان کے ذریعے پہنچائے گا، جو اس جنگ میں منعقد ہونے والے واحد امن مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے اور اس کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صبح سویرے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کسی مخصوص تجویز کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم کہا کہ اگر ”ایران ان شرائط پر عمل کرتا ہے جن پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے“ تو جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ بعد ازاں انہوں نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ کسی معاہدے پر دستخط کے لیے براہِ راست ملاقاتوں کا وقت ابھی قبل از وقت ہے۔
پاکستانی ذرائع اور ثالثی سے آگاہ ایک اور ذریعے نے امریکی خبر رساں ادارے Axios کی ابتدائی رپورٹ کی تصدیق کی ہے، جس میں ایک مجوزہ 14 نکاتی اور ایک صفحے پر مشتمل مفاہمت نامے کا ذکر کیا گیا ہے، جو باضابطہ طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مفاہمت نامے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت بحال کرنے، امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر کچھ حدود متعین کرنے کے لیے مزید تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔
پاکستانی ذریعے نے کہا: “ہم جلد اس معاملے کو حتمی شکل دے دیں گے، ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔”
تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ
ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں برینٹ کروڈ فیوچرز تقریباً 11 فیصد گر کر 98 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئے۔ اسی دوران عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی آئی جبکہ جنگ کے خاتمے کی امید پر بانڈ ییلڈز میں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ اس تنازع نے توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا تھا۔
اپنے صبح کے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا: ”اگر ایران ان شرائط پر عمل کرتا ہے جن پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے—اگرچہ یہ ایک بڑی مفروضہ بات ہے—تو مشہور ‘ایپک فیوری’ آپریشن ختم ہو جائے گا، اور سخت ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سب کے لیے، حتیٰ کہ ایران کے لیے بھی، کھول دی جائے گی۔“
انہوں نے مزید کہا: ”اگر وہ متفق نہیں ہوتے تو بمباری دوبارہ شروع ہو گی، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور بلند سطح کی ہوگی۔“
اس سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے دو روز پرانے بحری مشن کو عارضی طور پر روک دیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا، اور اس کی وجہ امن مذاکرات میں پیش رفت بتائی گئی۔
ایران کا ردعمل
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کی ”دھمکیاں“ ختم ہو جاتی ہیں تو آبنائے ہرمز سے گزرنا نئے قواعد کے تحت ممکن بنایا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے ان قواعد کی تفصیل نہیں بتائی۔
اہم مطالبات کا ذکر نہیں
ثالثی سے آگاہ ذریعے کے مطابق امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔ اگر ابتدائی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے بعد 30 روزہ تفصیلی مذاکرات شروع ہوں گے جن کا مقصد حتمی معاہدہ کرنا ہوگا۔
حتمی معاہدے میں امریکہ کی جانب سے پابندیاں ختم کرنا اور منجمد ایرانی رقوم کی بحالی، آبنائے ہرمز سے متعلق باہمی ناکہ بندیوں کا خاتمہ، اور ایران کے جوہری پروگرام پر کچھ حدود شامل ہوں گی، جن کا مقصد یورینیم افزودگی میں عارضی وقفہ یا روک لگانا ہے۔
اگرچہ ذرائع کے مطابق ابتدائی مفاہمت نامے میں فوری طور پر کسی فریق سے بڑی رعایتیں شامل نہیں ہوں گی، تاہم اس میں ان اہم امریکی مطالبات کا ذکر نہیں کیا گیا جن میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں، جنہیں ایران پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔
ذرائع نے ایران کے مستقبل میں یورینیم افزودگی پر ممکنہ پابندیوں کا ذکر کیا ہے، تاہم اس کے موجودہ ذخیرے کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا، جس میں 400 کلوگرام (تقریباً 900 پاؤنڈ) سے زائد یورینیم شامل ہے جو پہلے ہی اس سطح تک افزودہ کیا جا چکا ہے جو جوہری ہتھیاروں کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ واشنگٹن اس سے قبل یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ کسی بھی جنگ کے خاتمے سے پہلے ایران یہ ذخیرہ ترک کرے۔
مزید یہ کہ اگرچہ رپورٹ شدہ مسودہ ایران کی جانب سے ماضی میں مسترد کیے گئے بعض مطالبات کو بظاہر نظر انداز کرتا دکھائی دیتا ہے، تاہم اشارے موجود ہیں کہ تہران اب بھی امریکہ سے مزید رعایتوں کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمان کی طاقتور خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان اور رکنِ اسمبلی ابراہیم رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ پر لکھا ہے کہ ایکسئوس کی رپورٹ کردہ دستاویز دراصل ”امریکی خواہشات کی فہرست زیادہ اور حقیقت کم“ ہے۔
ان کا کہنا تھا: ”امریکی اس جنگ میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے، جس میں وہ پہلے ہی مذاکرات کے ذریعے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔“
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، جو اس وقت چین کے دورے پر ہیں، نے صدر ٹرمپ کے تازہ بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ تہران ”منصفانہ اور جامع معاہدے“ کے لیے کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز مشن معطل
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے مذاکرات میں ”نمایاں پیش رفت“ کا حوالہ دیتے ہوئے ”پروجیکٹ فریڈم“ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ وہی مشن تھا جو انہوں نے دو روز قبل آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔
تاہم یہ مشن تاحال اس آبی گزرگاہ میں بحری ٹریفک کی بحالی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکا، جبکہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں آبنائے ہرمز اور قریبی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
تازہ ترین واقعے میں ایک فرانسیسی شپنگ کمپنی نے بدھ کے روز بتایا کہ اس کا ایک کنٹینر جہاز گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں عملے کے کچھ افراد زخمی ہوئے، جنہیں بعد ازاں وہاں سے نکال لیا گیا۔






















Comments