مالیاتی شعبہ، محمد اورنگزیب کا سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے پر زور
- اجلاس میں کمرشل بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز کے ساتھ ساتھ ان کے چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسرز نے بھی شرکت کی۔
محمد اورنگزیب نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ سائبر نظام کے تحفظ اور بحالی کو پالیسی کی مرکزی ترجیح کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے ۔ یہ بات انہوں نے مالیاتی شعبے میں سائبر سیکیورٹی کی تیاریوں کو مضبوط بنانے سے متعلق ورچوئل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ہے۔
اجلاس میں کمرشل بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز کے ساتھ ساتھ ان کے چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسرز نے بھی شرکت کی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے خطرات اور بدلتی ہوئی تھریٹ ڈائنامکس کے تناظر میں سائبر سیکیورٹی کی تیاریوں کو بہتر بنانے پر غور کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ خزانہ نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز اور تکنیکی ماہرین کی فعال شمولیت کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اہم مالیاتی انفرااسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے پاکستان کا مالیاتی نظام ڈیجیٹل ہو رہا ہے، سائبر لچک (تحفظ اور جلد بحالی) کو مضبوط بنانا ایک بنیادی پالیسی ترجیح کے طور پر برقرار رہنا چاہیے۔
تفصیلی بریفنگ میں بدلتے ہوئے سائبر خطرات کے منظرنامے کی تفصیل پیش کی گئی، جس میں اے آئی (AI) سے چلنے والے سائبر ٹولز کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو اجاگر کیا گیا جو کمزوریوں کی نشاندہی، ایکسپلائٹس تیار کرنے اور “بے مثال رفتار” سے کثیر مرحلہ حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بیان میں مزید کہا گیا۔
پیشکش میں ڈیجیٹل بینکنگ چینلز، ادائیگی کے نظام اور بنیادی مالیاتی انفراسٹرکچر میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی گئی، اور ساتھ ہی نگرانی اور تیاری کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
بیان کے مطابق گفتگو میں جاپان اور بھارت جیسے ممالک کے حالیہ تجربات کا حوالہ بھی دیا گیا، جہاں مالیاتی نظام ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارمز اور باہم مربوط نظاموں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار رہے ہیں۔ شرکا نے کہا کہ یہ رجحانات پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور ادارہ جاتی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اسباق فراہم کرتے ہیں۔
اجلاس میں شرکا کو اے آئی سے تقویت یافتہ ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر بدلتی ہوئی پالیسیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا بھر میں وزارتِ خزانہ اور مرکزی بینک ان پیش رفتوں کو اب نظامی سطح کے سنگین خدشات کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاسوں سمیت بڑے مالیاتی اداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورت اور رابطوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
اجلاس میں شرکا نے ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بہتر رابطہ کاری، گورننس فریم ورک کو مضبوط بنانے اور سائبر سیکیورٹی پالیسیوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے پر غور کیا۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ تھریٹ انٹیلی جنس کے تبادلے کو بہتر بنایا جائے، پرانے (legacy) نظاموں کی کمزوریوں کو دور کیا جائے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتے ہوئے ڈیٹیکشن اور رسپانس میکانزم کو مضبوط بنایا جائے۔
وزیرِ خزانہ نے ایک منظم اور مرحلہ وار حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں فوری خطرات میں کمی، درمیانی مدت کی استعداد سازی اور طویل المدتی لچک شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی کا مضبوط ہونا نہ صرف مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پاکستان کی وسیع ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی ترقی کے اہداف کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید ہدایت کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن موجودہ فریم ورکس کا جامع جائزہ لیں، اہم خامیوں کی نشاندہی کریں اور سائبر رسک مینجمنٹ اور ادارہ جاتی تیاری کے تمام پہلوؤں کا ازسرِنو جائزہ لیں۔
انہوں نے ریگولیٹری اداروں، مالیاتی اداروں اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ بینکاری شعبے کی سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ایسی قابلِ عمل اور سوچ بچار پر مبنی سفارشات تیار کی جائیں جو عملی طور پر نافذ کی جا سکیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پالیسی کی نیت کو مؤثر عمل درآمد میں تبدیل کرنے کے لیے بہتر رابطہ کاری اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ناگزیر ہے۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قابلِ عمل اقدامات تیار کیے جائیں اور انہیں بروقت نافذ کیا جائے تاکہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
























Comments