وزیرِاعظم کا ایس این جی پی ایل کے خلاف پیپرا قواعد کی خلاف ورزی کی شکایت کا نوٹس، تحقیقات کی ہدایت
- ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے ارسال کی گئی شکایت پر شفاف تحقیقات کی جائیں، شہباز شریف
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی طرف سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے خلاف پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) قواعد کی خلاف ورزی کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے حکم دیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے ارسال کی گئی شکایت پر شفاف تحقیقات کی جائیں، شکایت کی تصدیق کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اتوار کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے ایئر انٹیک گیس ایلیمنٹس اور پری فلٹر ساکس کی خریداری کے ٹینڈر میں پیپرا کی ہدایات کی مبینہ عدم تعمیل پر سوئی ناردرن (ایس این جی پی ایل) کے خلاف وزیر اعظم آفس سے رجوع کیا تھا۔
وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ اور ایس این جی پی ایل (ایس این جی پی ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر سمیت تمام متعلقہ حکام کو لکھے گئے خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی ) نے موقف اختیار کیا کہ ان مسائل کے علاوہ، جن کی بنیاد پر پیپرا ریویو بورڈ پہلے ہی اس خریداری کو قوانین کے خلاف قرار دے چکا ہے، مزید کئی ایسی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی جن پر ایس این جی پی ایل کی جانب سے وضاحت درکار ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے درج ذیل خدشات اٹھائے ہیں:
ایس این جی پی ایل نے ٹینڈر کو صرف غیر ملکی بولی دہندگان تک محدود کر کے اس کا اشتہار کیوں دیا؟
شکایت کنندہ کو کلاز 3.2(b) کے تحت نااہل کیسے قرار دیا گیا جبکہ اس شق کا تعلق صرف غیر ملکی بولی دہندگان سے مطلوبہ معلومات، یعنی ان کے پتے اور پانچ سالہ تجربے سے ہے؟
(3) شکایت کنندہ نے فلٹر کی تیاری میں استعمال ہونے والے کاغذ کی ٹیسٹ رپورٹس جمع کرائی تھیں جن میں مینوفیکچرر کا شناختی نمبر بھی شامل تھا۔

























Comments