BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 59.20 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 26.85 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
BOP 35.41 Increased By ▲ 0.29 (0.83%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.75 Increased By ▲ 0.06 (0.3%)
DGKC 220.33 Increased By ▲ 1.71 (0.78%)
FABL 97.07 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 58.15 Increased By ▲ 1.40 (2.47%)
FFL 17.90 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
HBL 295.60 Increased By ▲ 2.61 (0.89%)
HUBC 230.95 Decreased By ▼ -0.86 (-0.37%)
HUMNL 11.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.56 Increased By ▲ 0.14 (1.66%)
LOTCHEM 28.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
MLCF 105.65 Increased By ▲ 2.35 (2.27%)
OGDC 339.90 Increased By ▲ 1.73 (0.51%)
PAEL 44.42 Increased By ▲ 0.95 (2.19%)
PIBTL 18.75 Increased By ▲ 1.05 (5.93%)
PIOC 270.25 Increased By ▲ 0.25 (0.09%)
PPL 248.10 Increased By ▲ 3.78 (1.55%)
PRL 35.35 Decreased By ▼ -0.08 (-0.23%)
SNGP 123.05 Decreased By ▼ -2.61 (-2.08%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.76 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
TRG 64.21 Decreased By ▼ -0.69 (-1.06%)
UNITY 11.21 Increased By ▲ 0.18 (1.63%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.02 (1.6%)
پاکستان

بجلی کا شارٹ فال 11,000 میگاواٹ سے تجاوز کر گیا

  • 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل طور پر بند ہے
شائع April 24, 2026 اپ ڈیٹ April 24, 2026 09:17am

پاکستان اس وقت بجلی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے جہاں آر ایل این جی کی صفر فراہمی، شیڈولڈ اور غیر شیڈولڈ لوڈشیڈنگ، اور بڑے پاور پلانٹس میں طویل خرابیوں کے باعث 11,000 میگاواٹ سے زائد بجلی کی کمی ہو چکی ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل طور پر بند ہے جبکہ 747 میگاواٹ کا گڈو کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹ تقریباً آدھی صلاحیت پر کام کر رہا ہے۔

ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 46,000 میگاواٹ ہے، تاہم مؤثر آپریشنل صلاحیت کم ہو کر تقریباً 29,066 میگاواٹ رہ گئی ہے۔ اس میں ہائیڈل سے 6,602 میگاواٹ، آر ایل این جی سے 6,602 میگاواٹ، فرنس آئل (آر ایف او) سے 3,472 میگاواٹ (جس کا کچھ حصہ بند ہے)، کوئلہ سے 6,778 میگاواٹ، گیس سے 1,907 میگاواٹ، نیوکلیئر سے 2,990 میگاواٹ، سولر سے 716 میگاواٹ، ونڈ سے 156 میگاواٹ اور بیگاس سے 132 میگاواٹ شامل ہیں۔

حالیہ تخمینوں کے مطابق تقریباً 28,000 میگاواٹ کی مؤثر صلاحیت میں سے لگ بھگ 11,000 میگاواٹ دستیاب نہیں، جس کے بعد اصل دستیاب بجلی تقریباً 17,000 میگاواٹ رہ جاتی ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق صوبوں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ڈیموں سے پانی چھوڑ کر 4,950 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی۔ اگرچہ ہائیڈرو پاور کی کل نصب شدہ صلاحیت 11,500 میگاواٹ ہے، مگر کم پانی کے باعث پیداوار تقریباً 6,000 میگاواٹ کم ہے۔

مزید برآں، جنوبی علاقے سے 400 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی گئی، تاہم ٹرانسمیشن مسائل کے باعث اضافی بجلی شمالی علاقوں تک منتقل نہیں ہو پا رہی، جس سے وسطی پنجاب میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 5,500 میگاواٹ صلاحیت کے حامل پاور پلانٹس بند ہیں، جبکہ بڑھتی طلب کے پیش نظر دو سے ڈھائی گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ جاری ہے۔ حکام کے مطابق رات کے وقت بجلی کی بچت ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

مستقبل کے تخمینوں کے مطابق 2035 تک بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر توانائی کے مؤثر انتظام اور بچت کی پالیسیوں پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف