پاکستان میں فائیوجی کا آغاز، ایک سنہرا موقع یا ایک اور ادھورا خواب؟
- صرف اسپیڈ کافی نہیں ،واضح ریگولیٹری فریم ورک اور ہنر مند افرادی قوت ناگزیر قرار
جب کوئی ملک اپنی رابطے کی صلاحیت (کنیک ٹی ویٹی) کو تیز تر اور بہتر بناتا ہے تو وہ صرف انٹرنیٹ کو بہتر نہیں کر رہا ہوتا بلکہ اپنی مستقبل کی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اگلی نسل کی کنیکٹیویٹی کے دور میں داخل ہونا ایک اہم تکنیکی سنگِ میل ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی اور لاہور سمیت 16 بڑے شہروں میں فائیوجی سروسز کا آغاز ملک کی ڈیجیٹل ترقی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس نے عالمی تکنیکی ترقی کے ساتھ قدم ملانے میں اکثر مشکلات کا سامنا کیا ہے، فائیو جی کا تعارف انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم اس کی اصل اہمیت صرف تیز رفتار ڈاؤن لوڈنگ یا بلا تعطل ویڈیو اسٹریمنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس ٹیکنالوجی کو ایک مسابقتی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کو تیار ہے؟
اکثر فائیو جی پر ہونے والی گفتگو صرف انٹرنیٹ کی رفتار کے گرد گھومتی ہے۔ بلاشبہ تیز رفتار کنیکٹیویٹی فائدہ مند ہے لیکن اسے محض تفریح یا سہولت تک محدود رکھنا اس کے وسیع معاشی اثرات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ عالمی سطح پر ففتھ جنریشن نیٹ ورکس صحت، مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ اور زراعت جیسے شعبوں میں انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل صارفین کے ساتھ پاکستان اس تبدیلی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بہتر کنیکٹیویٹی کے ذریعے پسماندہ علاقوں میں ٹیلی ہیلتھ، زراعت میں اسمارٹ سسٹم اور مینوفیکچرنگ میں خودکار نظام متعارف کروا کر پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ محض تصوراتی باتیں نہیں بلکہ جدید ڈیجیٹل نظام کے عملی استعمال ہیں۔ جو ممالک فائیوجی کو کامیابی سے اپنا چکے ہیں وہ اسے اسمارٹ سٹی منصوبوں اور جدید لاجسٹک فریم ورکس میں شامل کر رہے ہیں۔ برسوں تک اسپیکٹرم کی قیمتوں، ریگولیٹری ابہام اور معاشی عدم استحکام نے پاکستان میں اس پیشرفت کو روکے رکھا، جبکہ پڑوسی ممالک اپنی ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھاتے رہے۔ اب فائیو جی کا آغاز ایک علامتی اہمیت رکھتا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کی ٹیلی کام انڈسٹری آزمائشی مراحل سے نکل کر عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔
تاہم صرف علامات ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے کافی نہیں ہوتی ہیں۔ فائیوجی کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو واضح ریگولیٹری ڈھانچے، اسٹارٹ اپس کی حمایت، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (آر اینڈ ڈی) میں سرمایہ کاری اور ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ان بنیادوں کے بغیر فائیوجی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان کو اب بھی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ کی رسائی اب بھی غیر مساوی ہے، توانائی کے بحران سے ٹیلی کام انفرااسٹرکچر متاثر ہوتا ہے اور ڈیجیٹل ڈیوائڈ لاکھوں لوگوں کو آن لائن خدمات سے دور رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں صرف بڑے شہروں میں ہائی اسپیڈ ٹاورز لگانا کافی نہیں ہوگا۔
اگر فائیوجی صرف شہری علاقوں اور طبقہ اشرافیہ تک محدود رہا تو اس کے معاشی ثمرات بھی محدود رہیں گے
عالمی سطح پر جو ممالک تیز رفتار کنیکٹیویٹی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہاں ای کامرس، فن ٹیک، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کلاؤڈ سروسز میں تیزی سے ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی اس تبدیلی میں سب سے بڑا اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے، جو فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔
مستقبل میں فائیو جی کی کامیابی کا فیصلہ صرف نیٹ ورک کی رفتار سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ پاکستان اسے اپنے ترقیاتی منصوبوں میں کس طرح ضم کرتا ہے۔ شہروں میں تیز رفتار سگنلز والے ٹاورز تو کھڑے ہو سکتے ہیں لیکن حقیقی ترقی کا دارومدار پالیسیوں، اداروں اور قومی امنگوں کی رفتار پر ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے ممالک کے لیے واپسی کا راستہ انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔























Comments