اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس تقریباً 1 فیصد گرگیا
- امریکا،ایران مذاکرات کے غیر یقینی صورتحال کے درمیان منفی رجحان نمایاں رہا
اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے بے یقینی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو منفی رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں آغاز میں ہی انڈیکس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں پہلے ایک بڑا اضافہ ہوا اور پھر اچانک تیزی سے گراوٹ آئی جو مارکیٹ میں فروخت کے شدید دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
کاروبار کے دوران بحالی کا ایک مرحلہ بھی دیکھا گیا جس میں مارکیٹ نے اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور 173,452.66 پوائنٹس کی دن کی بلند ترین سطح کو چھوا۔
بعدازاں مارکیٹ اضافے کے اس رجحان کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی اور ٹریڈنگ کے آخری گھنٹوں میں مسلسل مندی کے دور میں داخل ہو گئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 1,576.49 پوائنٹس یا 0.91 فیصد کی کمی سے 171,579.30 پوائنٹس پر بند ہوا۔
منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تاہم سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باوجود مارکیٹ مثبت زون میں بند ہونے میں کامیاب رہی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس نے بھرپور استحکام کا مظاہرہ کیا اور 959 پوائنٹس یا 0.56 فیصد اضافے کے ساتھ 173,155.79 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے اعلان کے بعد بدھ کو امریکی اسٹاک فیوچرز میں اضافہ دیکھا گیا اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ رہا جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت ملی تاہم آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کے باعث خام تیل کی قیمتیں اپنی حالیہ بلند سطح پر برقرار رہیں۔
ٹرمپ کا یہ اعلان یکطرفہ معلوم ہوتا ہے اور فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا ایران یا امریکی اتحادی اسرائیل دو ہفتے قبل شروع ہونے والی اس جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کریں گے یا نہیں۔
تاہم مارکیٹوں نے اس خبر کا مثبت اثر لیا اور خطرات کے باوجود سرمایہ کاری کا رجحان برقرار رہا۔ ایشیائی تجارتی اوقات کے آغاز میں ایس اینڈ پی فیوچرز میں 0.5 فیصد جبکہ نسداق فیوچرز میں 0.6 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع ترین ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 0.14 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ انڈیکس 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس بھی 0.2 فیصد گرگیا کیونکہ تاجروں نے حالیہ منافع کو محفوظ بنانے کو ترجیح دی۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث مارچ میں حصص بازاروں میں آنے والی شدید مندی کے بعد رواں ماہ عالمی منڈیوں میں تیزی سے بحالی دیکھی گئی۔ امن معاہدے کے امکانات اور جنگ بندی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی جس کی بدولت مارکیٹیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
دریں اثنا، بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی اور 0.01 فیصد اضافے کے ساتھ 278.87 پر بند ہوا، یعنی تین پیسے کا اضافہ۔
آل شیئر انڈیکس کا حجم 1,054.06 ملین رہا، جو پچھلے 1,165.25 ملین کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت 37.29 ارب روپے رہی، پچھلے سیشن کے 54.94 ارب روپے کے مقابلے میں۔
یونٹی فوڈز لمیٹڈ حجم میں سب سے آگے رہا (133.36 ملین شیئرز)، اس کے بعد سنرجیکو پی کے (77.18 ملین) اور ورلڈ کال ٹیلی کام (56.32 ملین) آئے۔
کل 486 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 141 کے حصص میں اضافہ، 303 میں کمی اور 42 میں استحکام رہا۔


























Comments