ہنر مندی اور ای کامرس کے ذریعے پاکستان برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے، جام کمال
- وفاقی وزیرِ تجارت سے شاہی گروپ کے ڈائریکٹر تیمور صدیق کی سربراہی میں کاروباری رہنماؤں اور ترقیاتی ماہرین کے وفد کی ملاقات
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان ہنر مندی میں اضافے، ای کامرس کے انضمام اور معیشت کو بتدریج دستاویزی (فارمل) بنا کر اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے بشرطیکہ قوانین کی پابندی کرنے والے کاروبار کے لیے یکساں مواقع (لیول پلیئنگ فیلڈ) کو یقینی بنایا جائے۔
ایک اعلامیے کے مطابق انہوں نے یہ بات شاہی گروپ کے ڈائریکٹر تیمور صدیق کی سربراہی میں کاروباری رہنماؤں اور ترقیاتی ماہرین کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خاص طور پر ٹیکسٹائل، لیدر (چمڑے) اور ویلیو ایڈڈ ری سائیکل شدہ مصنوعات جیسے شعبوں میں برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کراچی جیسے مراکز بندرگاہ کی دستیابی، ہنرمند لیبر اور ایک قائم شدہ صنعتی نظام (ایکوسسٹم) کی وجہ سے قدرتی فوائد فراہم کرتے ہیں۔
وزیرِ تجارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ہنر، انفرااسٹرکچر اور کاروباری صلاحیت موجود ہے، ہماری توجہ پالیسی سپورٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اس صلاحیت کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے پر مرکوز ہے۔
ملاقات کے دوران مارکیٹنگ کے جدید طریقوں بشمول اسٹوری ٹیلنگ پر مبنی برانڈنگ پر بھی غور کیا گیا جہاں مصنوعات کو سماجی اثرات جیسے کہ کمیونٹی کی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے سے جوڑا جاتا ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی روایتی صنعتیں جیسے کہ قالین بافی اور دستکاری، انہیں جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ منسلک کر کے دوبارہ بحال کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ اگرچہ ماضی میں مارکیٹ تک محدود رسائی کی وجہ سے ایسے شعبوں کو زوال کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اب ای کامرس ان کی پائیدار ترقی کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
گفتگو کے دوران شرکاء نے نچلی سطح (گراس روٹ) پر کامیاب اقدامات کو اجاگر کیا، جن میں بلوچستان میں سلائی کڑھائی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز شامل ہیں جہاں نوجوان خواتین کو جدید آلات پر تربیت دی جارہی ہے۔
ان مراکز کی بدولت مقامی کمیونٹیز برآمدی معیار کی اشیاء تیار کرنے کے قابل ہورہی ہیں جس سے نچلی سطح پر آمدنی کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔
وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ مارکیٹ تک رسائی کے بغیر صرف تربیت کافی نہیں ہے۔ انہوں نے ایسے اقدامات کو ای کامرس پلیٹ فارمز سے جوڑنے کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ مقامی طور پر تیار کردہ اشیاء بین الاقوامی خریداروں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ڈیجیٹل تجارت نے نئے راستے کھول دیے ہیں۔
جام کمال خان نے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ برآمدات سے متعلق چارجز کو معقول بنانے، ریگولیٹری ڈھانچے کو ہموار کرنے اور ٹیکس ریفنڈز اور کلیمز جیسے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ برآمد کنندگان کے پاس سرمائے کی دستیابی کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے غیر دستاویزی (انفارمل) سیکٹر سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ غیر دستاویزی کاروبار ٹیکس ادا کرنے والے اداروں کے لیے غیر منصفانہ مقابلے کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنانے اور دستاویزی معیشت کے فروغ سے مسابقت میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری راغب ہوگی۔
وزیرِ تجارت نے ان تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ خود کفیل مقامی اداروں کی تشکیل سے ترقی کی رفتار تیز ہو سکتی ہے اور بیرونی فنڈنگ پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
ملاقات کا اختتام عوامی اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، ڈیجیٹل تجارتی نظام (ایکوسسٹم) کو مضبوط بنانے اور کاروباری افراد و انٹرپرینیورز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔

























Comments