روس کی پاکستان کو توانائی شعبے میں سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کیلئے تعاون کی پیشکش
- یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں اہم تنصیبات کو سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ روس نے پاکستان کو توانائی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کی سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے میں تعاون کی پیشکش کی ہے، جو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں اہم تنصیبات کو سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیشکش روس کے وزیرِ توانائی سرگئی سیویلیف کی جانب سے پاکستان کے وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ارسال کردہ ایک خط کے ذریعے باضابطہ طور پر دی گئی۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے توانائی اور معاشی تعاون کے تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، بزنس ٹو بزنس روابط، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں منعقد ہونے والے دسویں پاکستان-روس بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان معیار، اینٹی مناپولی ریگولیشن اور میڈیا تعاون سے متعلق تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے تھے۔
توانائی کا شعبہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جہاں تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سپلائی پر بھی تعاون پر بات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی، پن بجلی اور پانی کے انتظام سے متعلق ٹیکنالوجیز پر بھی تعاون کے امکانات زیرِ غور ہیں۔
روسی وزیر نے اپنے خط میں پاکستان کے ساتھ توانائی تعاون میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے کو درپیش سائبر خطرات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جو سرحدوں سے ماورا ہیں اور ان کے مقابلے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ضروری ہے۔
روس نے تجویز دی ہے کہ دونوں ممالک مل کر ایک جامع پروگرام تیار کریں جس کے تحت پاکستان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سائبر مزاحمت کا جائزہ لیا جائے اور اسے بہتر بنایا جائے۔ اس منصوبے کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور اہم توانائی نظاموں کو محفوظ بنانا ہے۔
اس مقصد کے لیے روس نے تجویز دی ہے کہ اس منصوبے کے عملی نفاذ کے لیے سائبرس نامی ادارے کو شامل کیا جائے، جو صنعتی سائبر سکیورٹی میں مہارت رکھتا ہے اور روس کی وزارتِ توانائی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت بجلی کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن، اسمارٹ گرڈز اور ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) جیسے منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، جن سے کارکردگی بہتر ہو رہی ہے مگر ساتھ ہی سائبر خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر یہ تعاون عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے پاکستان کے توانائی کے تحفظ اور ڈیجیٹل نظام کی مضبوطی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے اسلام آباد اور ماسکو کے اسٹریٹجک تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments