BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.24%)
KSE100 Increased By (0.02%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.34 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 13.12 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.35 Increased By ▲ 0.21 (0.22%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.62 Decreased By ▼ -0.10 (-0.68%)
GGL 19.43 Decreased By ▼ -0.13 (-0.66%)
HBL 307.29 Increased By ▲ 1.19 (0.39%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.10 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
KEL 6.15 Increased By ▲ 0.06 (0.99%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
MLCF 93.20 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
OGDC 315.90 Decreased By ▼ -0.83 (-0.26%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.50 Increased By ▲ 0.29 (0.12%)
PPL 224.49 Decreased By ▼ -2.42 (-1.07%)
PRL 92.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
SNGP 91.89 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
SSGC 23.85 Increased By ▲ 0.04 (0.17%)
TELE 7.80 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.80 Decreased By ▼ -0.17 (-1.31%)
TRG 56.74 Increased By ▲ 0.18 (0.32%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

مہنگائی کا دباؤ برقرار، شرح نمو 3 فیصد تک محدود رہنے کی توقع، ورلڈ بینک

  • بیرونی محاذ پر کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو جس کے بارے میں پہلے یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ وہ مالی سال 2026 میں بڑھ کر 3.4 فیصد تک پہنچ جائے گی، اب اس کے 3 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے۔

عالمی بینک نے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کی معاشی صورتحال پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ (اپریل 2026) میں نوٹ کیا ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 3.1 فیصد رہی، جس کا رواں مالی سال کے لیے تخمینہ 3 فیصد لگایا گیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں، بینک نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.4 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔

مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان ہے، جس کا اوسط مالی سال 2025 میں 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 7.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

بیرونی محاذ پر کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے سرپلس (بچت) کے مقابلے میں مالی سال 2026 میں یہ 1.2 فیصد خسارے میں بدل سکتا ہے۔

دوسری جانب مالی سال 2026 کے لیے مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو مالی سال 2025 کے 5.4 فیصد خسارے کے مقابلے میں بہتر ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ تنازع خطے میں عدم استحکام کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یمن کا انسانی بحران خوراک کی شدید عدم تحفظ کے باعث مزید بگڑ گیا ہے اور غزہ میں جاری نازک جنگ بندی بھی بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے۔

جنگ کے میدانوں سے دور مصر، اردن اور پاکستان جیسی معیشتوں کو بالواسطہ لیکن ممکنہ طور پر شدید منفی اثرات کا سامنا ہے۔ یہ اثرات ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، توانائی کی قلت اور خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر اور سیاحت میں کمی کی صورت میں منتقل ہورہے ہیں۔

مصر، اردن اور پاکستان جیسی کئی قریبی معیشتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان پر پڑنے والے اثرات میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ، سیاحت اور ترسیلاتِ زر سے ہونے والی آمدن میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں آنے والی کمی شامل ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف