مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید پر خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
- برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے 6.21 ڈالر یا 5.9 فیصد کمی کے بعد 98.28 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز 5 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی، جس کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی امیدیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے کے لیے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں کم ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدے 6.21 ڈالر یا 5.9 فیصد کمی کے بعد 98.28 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ اس دوران قیمتیں کم ہو کر 97.57 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئیں۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچر 4.67 ڈالر یا 5.1 فیصد کمی کے بعد 87.68 ڈالر فی بیرل رہ گئے، جبکہ سیشن کے دوران یہ 86.72 ڈالر تک گر گئے۔
یاد رہے کہ منگل کے روز دونوں بینچ مارکس میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا تھا، تاہم بعد ازاں غیر یقینی صورتحال کے باعث منڈی میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کے مطابق جنگ بندی کی توقعات میں کچھ اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کار منافع سمیٹنے کے لیے تیل فروخت کر رہے ہیں، تاہم مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں مزید بڑی کمی محدود رہ سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے یا ایران کے حملے پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات تک پھیل جاتے ہیں، یا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا دباؤ بڑھتا ہے تو تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن نے ایران کو 15 نکاتی تصفیہ منصوبہ ارسال کیا ہے۔
اسرائیل کے چینل 2 کے مطابق امریکہ ایک ماہ کی جنگ بندی چاہتا ہے تاکہ اس منصوبے پر بات چیت کی جا سکے۔ اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے، پراکسی گروپوں کی حمایت روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے جیسے نکات شامل ہیں۔
یہ جنگ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کو تقریباً مفلوج کر چکی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس سپلائی کی ترسیل کا راستہ ہے، اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق یہ تیل کی فراہمی میں تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
ادھر پاکستان کے وزیر اعظم نے منگل کو کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ایران نے پیر کے روز امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل ہونے کی تردید کی تھی۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو بھی بتایا ہے کہ غیر دشمن جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کر کے آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور ذرائع کے مطابق واشنگٹن خطے میں مزید فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے اثرات کم کرنے کے لیے سعودی عرب کی بحیرہ احمر میں واقع ینبا بندرگاہ سے تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے وہاں سے تقریباً 4 ملین بیرل یومیہ تیل برآمد کیا گیا، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔






















Comments