ماری انرجی کی بڑی کامیابی، سندھ میں گیس کے نئے ذخائر دریافت
- شمس-ون کنویں کی کھدائی کا آغاز 30 جنوری 2026 کو کیا گیا تھا
پاکستان کی سب سے بڑی پٹرولیم اور گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ماری انرجی لمیٹڈ نے جمعرات کو سندھ میں واقع اپنے تلاشی کنویں سے ہائیڈرو کاربن (تیل و گیس) کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی نمایاں تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی ماری انرجی لمیٹڈ نے سندھ میں واقع اپنے ایک تلاشی کنویں سے ہائیڈروکاربن (تیل و گیس) کی کامیاب دریافت کا اعلان کردیا۔
کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس معلومات سے آگاہ کیا۔
ماری انرجی لمیٹڈ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع ماری ڈی اینڈ پی ایل میں کھودے گئے اپنے تلاشی کنویں شمس-ون سے گیس اور کنڈنسیٹ کی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے مسرت محسوس کرتی ہے۔
شمس-ون کنویں کی کھدائی کا آغاز 30 جنوری 2026 کو کیا گیا تھا اور اسے 3,075 میٹر کی مجموعی گہرائی تک کامیابی سے کھودا گیا. نوٹس میں مزید بتایا گیا کہ اس کنویں میں لوئر گورو۔ بی ریت کے طبقات کو تلاشی اہداف کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
نوٹس کے مطابق ٹیسٹنگ کے دوران کنویں سے 64/64 کے چوک سائز پر روزانہ 47.98 ملین مکعب فٹ گیس اور 64 بیرل کنڈنسیٹ (مائع پٹرولیم) کا بہاؤ حاصل ہوا۔
اسٹاک مارکیٹ کو مطلع کیا گیا کہ آزمائشی عمل کے دوران، کنویں کا مستحکم ویڈ ہیڈ فلوئنگ پریشر یعنی سرِ کنواں بہاؤ کا دباؤ 2,404 پی ایس آئی جی ریکارڈ کیا گیا۔
کمپنی ایک مربوط تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کا ادارہ ہے جس کی کامیابی کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے جو کہ قومی سطح پر صنعت کی اوسط 33 فیصد اور بین الاقوامی سطح پر 14 فیصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
ماری انرجی کے اہم صارفین میں کھاد تیار کرنے والے کارخانے، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں ، گیس کی تقسیم کار کمپنیاں اور ریفائنریز شامل ہیں۔
























Comments