BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.64%)
KSE100 Decreased By (-0.14%)
KSE30 Decreased By (-0.14%)
BAFL 57.10 Increased By ▲ 0.23 (0.4%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.23 Decreased By ▼ -0.12 (-0.4%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.00 Decreased By ▼ -2.45 (-1.27%)
FABL 94.35 Increased By ▲ 0.21 (0.22%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.22 Decreased By ▼ -0.34 (-1.74%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 200.90 Decreased By ▼ -0.52 (-0.26%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
MLCF 92.81 Decreased By ▼ -0.35 (-0.38%)
OGDC 315.40 Decreased By ▼ -1.33 (-0.42%)
PAEL 35.20 Decreased By ▼ -0.43 (-1.21%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 242.50 Decreased By ▼ -0.71 (-0.29%)
PPL 223.75 Decreased By ▼ -3.16 (-1.39%)
PRL 92.34 Decreased By ▼ -0.68 (-0.73%)
SNGP 91.53 Decreased By ▼ -0.31 (-0.34%)
SSGC 23.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
TELE 7.67 Decreased By ▼ -0.13 (-1.67%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.40 Decreased By ▼ -0.16 (-0.28%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ

  • خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار اور مختلف اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی علاقائی اور داخلی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق اجلاس میں موجودہ علاقائی ماحول اور خطے میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار اور مختلف اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران افغانستان کی صورتحال پر بھی تفصیل سے غور کیا گیا۔ شرکاء کو ملک کی داخلی سکیورٹی کی صورتحال اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کی ہدایات پر اجلاس میں ایران سے پاکستانی شہریوں کے انخلاء کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزارتِ خارجہ نے ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ انخلاء کے عمل میں آذربائیجان کے ذریعے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے ایک بڑے حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جو اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی ان کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔

علاقائی صورتحال کے پیش نظر وزارتِ خارجہ نے اپنے کرائسز مینجمنٹ یونٹ کو فعال کر دیا ہے ,تاکہ پیش رفت پر کڑی نظر رکھی جا سکے اور تمام ضروری امداد فراہم کی جا سکے۔ یہ یونٹ 24 گھنٹے کام کر رہا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے خلیجی خطے میں مقیم تمام پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، بلا ضرورت سفر سے گریز کرنے اور مقامی حکومتوں کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضبِ الحق کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کی ہیں، جن کے مطابق اس آپریشن میں افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 415 افغان طالبان ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ عسکری کارروائیوں میں 182 چیک پوسٹیں تباہ اور 31 پر قبضہ کر لیا گیا ہے، جبکہ 185 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ افغانستان میں 46 مقامات پر درست فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

پاکستان نے یہ حملے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے جواب میں کیے ہیں، جبکہ اسلام آباد کا الزام ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ کابل نے ان حملوں کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سنگین نتائج کی وارننگ دی ہے، جس سے 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر ایک طویل تنازع کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

Comments

Comments are closed.