ای سی سی نے کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم کی نظرثانی شدہ منظوری اور اہم انفرااسٹرکچر گرانٹس کی منظوری دے دی
- قرض کی حد بڑھا کر 1 کروڑ روپے تک کر دی گئی
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کے روز کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری دے دی، جس کے اجرا کے بعد سے اب تک 10,594 سے زائد قرض درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ یہ بات فنانس ڈویژن کے بیان میں بتائی گئی ہے۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا۔
بیان کے مطابق ای سی سی نے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا، جس میں ”میرا گھر میرا آشیانہ (ایم جی ایم اے)“ کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مارگیج فنانسنگ کی نظرثانی شدہ خصوصیات کی منظوری طلب کی گئی تھی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسکیم کے آغاز کے بعد سے عوامی سطح پر بھرپور ردعمل سامنے آیا ہے، اب تک 10,594 سے زائد قرض درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جبکہ رقوم کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔
فنانس ڈویژن کے مطابق تفصیلی غور کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسکیم کی نظرثانی شدہ خصوصیات کی منظوری دے دی، جن میں قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنا، اہل رہائشی یونٹس کے سائز کے معیار میں توسیع، صارفین کے لیے یکساں 5 فیصد شرح متعارف کرانا، چار سالہ مدت میں ہاؤسنگ فنانس کے اہداف میں اضافہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے طریقہ کار کے تحت عمل درآمد جاری رکھنا اور پہلے سے جاری شدہ قرضوں کو بھی یکساں 5 فیصد شرح پر ایڈجسٹ کرنا شامل ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سبسڈی کی ادائیگیاں حقیقی ڈسبرسمنٹ کے مطابق کی جائیں گی اور انہیں سالانہ مالی گنجائش میں سمویا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ نظرثانی شدہ فریم ورک کا مقصد کم لاگت ہاؤسنگ فنانس تک رسائی بڑھانا، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اور متوازن رسک شیئرنگ و مارک اپ سبسڈی ماڈل کے ذریعے پائیدار گھر کے حصول کو ممکن بنانا ہے۔
دریں اثنا اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت داخلہ و انسداد منشیات کنٹرول کی جانب سے پیش کردہ سمری کی بھی منظوری دی، جس کے تحت ”نیشنل پروگرام فار انہانسنگ کمانڈ ایریاز اِن بارانی ایریاز آف پاکستان“ منصوبے کے آئی سی ٹی جز کے لیے 72 لاکھ 89 ہزار روپے بطور ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ ( ٹی ایس جی ) منتقل کیے جائیں گے، جس کا مقصد بارانی علاقوں میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔
مزید برآں ای سی سی نے ریلوے ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری منظور کرتے ہوئے تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 6 ارب 61 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بطور بجٹ سپورٹ فراہم کرنے کی منظوری دی۔
بیان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مقامی کوئلے کو بجلی گھروں اور صنعتی شعبوں تک پہنچانے میں سہولت فراہم کرنا ہے، جس سے توانائی کے تحفظ کو تقویت ملے گی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ورچوئل شرکت کی، جبکہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکرٹریز اور سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔























Comments