BR100 Decreased By (-1.56%)
BR30 Decreased By (-1.98%)
KSE100 Decreased By (-1.33%)
KSE30 Decreased By (-1.43%)
BAFL 56.56 Decreased By ▼ -0.17 (-0.3%)
BIPL 26.78 Decreased By ▼ -0.20 (-0.74%)
BOP 32.90 Decreased By ▼ -0.85 (-2.52%)
CNERGY 10.02 Increased By ▲ 0.14 (1.42%)
DFML 17.74 Decreased By ▼ -0.26 (-1.44%)
DGKC 196.12 Decreased By ▼ -8.81 (-4.3%)
FABL 98.60 Decreased By ▼ -1.50 (-1.5%)
FCCL 51.30 Decreased By ▼ -1.79 (-3.37%)
FFL 16.18 Decreased By ▼ -0.34 (-2.06%)
GGL 25.14 Increased By ▲ 0.30 (1.21%)
HBL 297.55 Decreased By ▼ -2.27 (-0.76%)
HUBC 214.50 Decreased By ▼ -2.58 (-1.19%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.11 (-1.04%)
KEL 7.11 Decreased By ▼ -0.11 (-1.52%)
LOTCHEM 28.98 Decreased By ▼ -0.33 (-1.13%)
MLCF 88.50 Decreased By ▼ -3.66 (-3.97%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -3.29 (-1.04%)
PAEL 40.91 Decreased By ▼ -1.13 (-2.69%)
PIBTL 15.98 Decreased By ▼ -0.43 (-2.62%)
PIOC 284.50 Decreased By ▼ -15.74 (-5.24%)
PPL 212.00 Decreased By ▼ -4.84 (-2.23%)
PRL 51.80 Increased By ▲ 0.94 (1.85%)
SNGP 99.20 Decreased By ▼ -2.52 (-2.48%)
SSGC 25.25 Decreased By ▼ -1.73 (-6.41%)
TELE 8.27 Decreased By ▼ -0.38 (-4.39%)
TPLP 13.12 Decreased By ▼ -0.27 (-2.02%)
TRG 56.80 Decreased By ▼ -2.46 (-4.15%)
UNITY 10.06 Decreased By ▼ -0.24 (-2.33%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو کہا ہے کہ وہ معاشی روابط کو آگے بڑھانے کے لیے آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی تجارتی حکمتِ عملی کا نئے سرے سے جائزہ لے رہا ہے جس کی وجہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ معاہدے اور بنگلہ دیش کا واشنگٹن کے ساتھ ہونے والا سمجھوتہ ہے جس نے مقامی صنعت میں بے چینی پیدا کردی ہے۔

وفاقی چیمبر کے ریجنل آفس لاہور میں پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صنعتکاروں کو بتایا کہ میں آئندہ ہفتے امریکہ روانہ ہورہا ہوں، امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات کس طرح کرنے ہیں، اس حوالے سے آپ کی تمام سفارشات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے مقامی صنعت کو اپنا ریونیو ماڈل تبدیل کرنے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مطالبات سے مکمل طور پر متفق ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اب ایک نیو ورلڈ آرڈر میں رہ رہے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق امریکا بدستور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 18 فیصد، یعنی تقریباً 5.8 ارب ڈالر امریکا کو برآمد کیا گیا۔

امریکی مارکیٹ کو ہونے والی پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 82 فیصد ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے۔ یہ بھاری انحصار امریکی تجارتی پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور امریکی مارکیٹ تک بلا تعطل رسائی برقرار رکھنے کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

چند روز قبل پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے امریکہ کے ساتھ بہتر تجارتی انتظامات کے لیے حکومت سے رجوع کیا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھا ہے جبکہ اپٹما نے بھی وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کو مراسلہ بھیجا ہے۔

دریں اثنا وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو کہا کہ پاکستان وقفے وقفے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرتا رہتا ہے کیونکہ ادائیگیوں کا توازن ہماری معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اسی لیے ہمیں ایسی ترقی کی ضرورت ہے جس کی بنیاد برآمدات پر مبنی ہو۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ معیشت نے استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ منزل بڑی مشکل سے حاصل ہوئی ہے۔

Comments

200 حروف