خصوصی ٹیکس کا طریقۂ کار — معاملہ پھر نقطۂ آغاز پر (حصہ اول)
- 22.47 کھرب روپے کی معیشت کو عملاً آمدنی پر مبنی دستاویزی ٹیکس نظام سے باہر نکال دینا، ٹیکس اصلاح نہیں بلکہ ٹیکس نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
14 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے ایس آر او 1109(I)/2026 کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایسے ریٹیلرز کے لیے انکم ٹیکس کا خصوصی طریقۂ کار تجویز کیا ہے جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے سے کم ہے۔ یہ تجویز گزشتہ 75 برس کی معاشی تاریخ میں متعارف کرائی جانے والی متعدد اسکیموں میں سے ایک ہے، جن کا مقصد ریٹیلرز اور ہول سیلرز کے لیے ایک منصفانہ اور آسان ٹیکس نظام قائم کرنا رہا ہے۔ تاہم ماضی کی تمام کوششیں اس طبقے سے مؤثر انداز میں ٹیکس وصول کرنے کے لیے ریاستی عملداری نافذ نہ کر سکنے کے باعث ناکام ثابت ہوئیں۔
بہت بڑی تعداد میں ریٹیلرز اپنی حقیقی آمدنی پر ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ عام تاثر کے برعکس مسئلہ آمدنی ظاہر نہ کرنے کا نہیں بلکہ بڑی پیمانے پر کم آمدنی ظاہر کرنے کا ہے۔ یہ تصور بھی درست نہیں کہ ایسے تمام ریٹیلرز انکم ٹیکس کے لیے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ ان میں سے خاصی تعداد کسی نہ کسی صورت ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ ہے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بیشتر معاملات میں آمدنی کو نمایاں حد تک کم ظاہر کیا جاتا ہے۔
ریاستی مشینری گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کم ظاہر کردہ آمدنی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور عملاً مختلف طریقوں سے اس ناکامی کو تسلیم بھی کرتی رہی ہے۔ تاہم اس نئے ایس آر او کے ذریعے اس ناکامی کو پہلی مرتبہ باقاعدہ قانونی شکل دے دی گئی ہے۔
واپسی کی جانب قدم
اس ناکامی کی وجوہات کے حق یا مخالفت میں مختلف دلائل دیے جا سکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس باضابطہ پسپائی نے بالخصوص 1990 کی دہائی کے بعد ٹیکس نظام کو آمدنی اور لین دین کی بنیاد پر استوار کرنے کے لیے کیے گئے متعدد مثبت اقدامات کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ یہ اقدامات جدید اور مؤثر ٹیکس نظام کی تشکیل کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے تھے۔
الف) اس مجوزہ نظام کے تحت عملاً یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت ریٹیلرز سے سیلز ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا اور ملک میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) کا جامع نظام نافذ کرنا ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لیے قانون میں درج ذیل شق شامل کی گئی ہے:
شق 3(9): ذیلی شق (1) میں درج کسی بھی بات کے باوجود، ٹیئر-ون کے علاوہ دیگر ریٹیلرز سے سیلز ٹیکس ان کے ماہانہ بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔ اگر ماہانہ بل 20 ہزار روپے تک ہو تو ٹیکس کی شرح 5 فیصد اور اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں 7.5 فیصد ہوگی۔ بجلی فراہم کرنے والا ادارہ وصول شدہ رقم کو اپنے ان پٹ ٹیکس سے ایڈجسٹ کیے بغیر براہِ راست قومی خزانے میں جمع کرائے گا۔
ب) اس کے نتیجے میں پاکستان میں سیلز ٹیکس (وی اے ٹی) عملاً ایکسائز ڈیوٹی کی طرز پر صنعت کار یا درآمد کنندہ سے مصنوعات کی ریٹیل قیمت کی بنیاد پر وصول کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تیسرے شیڈول کا دائرہ کار مسلسل بڑھایا گیا ہے۔ 2009 تک صرف 15 اشیا اس شیڈول میں شامل تھیں، مگر وی اے ٹی نظام سے اس پسپائی کے نتیجے میں اب ان کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ج) ماضی میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 73 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دیگر دفعات کے ذریعے ٹیکس نظام کو خودکار اور ڈیجیٹل بنایا گیا تاکہ تجارتی لین دین کو بینکاری نظام سے منسلک کیا جا سکے۔ تاہم مجوزہ نظام میں بالواسطہ طور پر نقد لین دین کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، کیونکہ 20 کروڑ روپے تک کی فروخت بھی کراس چیک یا بینک کے ذریعے ادائیگی کی شرط کے بغیر ممکن ہوگی۔
د) قیاسی (فرضی) ٹیکس کا تصور، جسے 2019 اور اس سے قبل عملاً ختم کر دیا گیا تھا، ایک مرتبہ پھر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ قابلِ انتساب آمدنی کے کریڈٹ کا ایک غیر معمولی تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جس کی تجویز درج ذیل انداز میں دی گئی ہے:
ٹیکس کی شرح: اس مجوزہ طریقۂ کار کے تحت مجموعی کاروباری حجم (گراس ٹرن اوور) پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ دکاندار اپنے قابلِ ادائیگی ٹیکس سے ودہولڈنگ ٹیکس کی رقم ایڈجسٹ کر سکیں گے۔ تاہم اگر ودہولڈنگ ٹیکس اس خصوصی طریقۂ کار کے تحت واجب الادا کم از کم ٹیکس سے زیادہ بھی ہو تو اضافی رقم کا ریفنڈ نہیں دیا جائے گا۔
اس خصوصی طریقۂ کار کے تحت کم از کم ٹیکس: اس نظام سے فائدہ اٹھانے کے لیے دکانداروں کو، آرڈیننس کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس یا دیگر ذرائع سے ہونے والی ٹیکس کٹوتی یا وصولی سے قطع نظر، آمدنی کا گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد ادا کرنا ہوں گے۔ یعنی ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد واجب الادا ٹیکس یا 25 ہزار روپے، دونوں میں سے جو رقم زیادہ ہوگی، وہی قابلِ ادائیگی ٹیکس تصور ہوگی۔
قابلِ انتساب آمدنی (امپیوٹیبل انکم): اس خصوصی طریقۂ کار کو اختیار کرنے والے دکاندار اپنے ادا کردہ ٹیکس کی بنیاد پر قابلِ انتساب آمدنی کا کریڈٹ حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے، تاکہ اپنی ذاتی اخراجات اور اثاثوں میں اضافے کے لیے مالی گنجائش ثابت کر سکیں۔
مصنف کے مطابق یہ پسپائی ملک کے مفاد میں نہیں اور پائیدار مالیاتی ترقی کے لیے اس مجوزہ اسکیم میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
مصنف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام کسی قرض دہندہ ادارے کی خواہشات کو مدنظر رکھ کر تشکیل نہیں دیا جانا چاہیے، خصوصاً جب یہ معلوم ہو کہ ایسے اقدامات طویل مدت میں معیشت کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول ایسا طرزِ عمل فکری کمزوری کے مترادف ہے۔
اسکیم
اس مجوزہ نظام سے اب قانون میں عملاً یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ آمدنی پر براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس اب ریٹیل تجارت سے پہلے تک کی کاروباری زنجیر تک محدود رہے گا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت بھی اس شعبے کی بڑی آمدنی کم ظاہر کیے جانے کے باعث ٹیکس نظام سے باہر ہے۔ اسی بنیاد پر پالیسی ساز یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ اس اقدام کا مقصد کم از کم ایسے کاروباری افراد کو جزوی طور پر دستاویزی نظام میں لانا ہے تاکہ کاروبار کرنے والے افراد کی شناخت اور ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہو۔
مصنف کے مطابق اس مؤقف میں کسی حد تک وزن ضرور ہے، تاہم عملی طور پر یہ اسکیم حکومت اور ریٹیلرز دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
اگر کسی ریٹیلر کا منافع ٹرن اوور کے 2.8 فیصد سے زیادہ ہو تو اس کے لیے اپنی حقیقی آمدنی کی وضاحت کرنا مشکل ہو جائے گا، جب تک کہ وہ قابلِ انتساب آمدنی سے اضافی رقم پر الگ سے ٹیکس ادا نہ کرے۔ مثال کے طور پر 100 روپے کے کاروبار میں اگر اخراجات 97.2 روپے ہوں تو منافع 2.8 روپے بنتا ہے۔ اس پر 35 فیصد انکم ٹیکس تقریباً ایک روپے بنتا ہے، جو 100 روپے کے ٹرن اوور کے ایک فیصد کے برابر ہے۔ اس شرح سے زیادہ منافع کی صورت میں اضافی آمدنی کی وضاحت ایک مسئلہ بن جائے گی، جیسا کہ آگے بیان کیا گیا ہے۔
اسکیم کی دیگر نمایاں خصوصیات
خلاصہ یہ ہے کہ:
الف) اگر کسی انفرادی ریٹیلر کا ظاہر کردہ سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے سے کم ہو تو اس پر عام انکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا، بلکہ ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اگر بجلی کے بلوں کے ذریعے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا گیا ہو تو اسے اس ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کیا جا سکے گا، تاہم اضافی رقم کا ریفنڈ نہیں ملے گا۔ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے ہر شخص کو سالانہ کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
ب) ایسے ریٹیلرز پر سیلز ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
ج) ان ریٹیلرز کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 153 کے تحت خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی ذمہ داری بھی نہیں ہوگی۔
د) یہ اسکیم صرف انفرادی (انڈیویجول) ریٹیلرز کے لیے ہوگی۔ فرمز اور کمپنیاں ان مراعات سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔
ہ) آرڈیننس کی شق 2(28A) کے تحت قابلِ انتساب آمدنی کا تعین کیا جائے گا اور اسے ان قواعد کے تحت جمع کرائے جانے والے آمدنی کے گوشوارے میں ظاہر کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے مزید کوئی وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔
و) کسی بھی غیر ظاہر شدہ اثاثے یا آمدنی کو کارروائی کا حصہ بنانے سے قبل متعلقہ تجارتی تنظیم (ٹریڈ ایسوسی ایشن) سے مشاورت کی جائے گی۔
ز) اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے شخص کو آمدنی کے گوشوارے کے ساتھ اپنے کاروبار کی فرضی (نوشنل) بیلنس شیٹ بھی جمع کرانا ہوگی۔
تجزیہ
اس مجوزہ طریقۂ کار کے تحت ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا، جو متعلقہ شخص کی حتمی ٹیکس ذمہ داری تصور ہوگی۔ اس ٹیکس کا اس شخص کی حقیقی آمدنی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
تاہم ضمیمہ نمبر 1 میں شامل آمدنی کے گوشوارے میں کاروبار اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدنی کا الگ حساب بھی درج کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اسی ضمیمے میں کل واجب الادا ٹیکس کی بنیاد ریٹیل کاروبار کے ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس ہی رکھی گئی ہے۔
اسی ضمیمے میں قابلِ انتساب آمدنی (امپیوٹیبل انکم) کا بھی حساب موجود ہے، جو دراصل اسکیم کے قاعدہ 12 سے متعلق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گوشوارے میں دو مختلف اقسام کی آمدنی ظاہر کی جائیں گی۔
- پہلی، حقیقی آمدنی، جو اصل اخراجات کی بنیاد پر ہوگی۔
- دوسری، قابلِ انتساب آمدنی، جس کا تعین آرڈیننس کی شق 2(28A) کے تحت ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
بظاہر تو ٹیکس کی ادائیگی پہلی بنیاد کے مطابق حتمی سمجھی جائے گی، مگر مصنف کے مطابق حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
ٹیکس دہندہ کے لیے مسئلہ
قانون واضح طور پر قابلِ انتساب آمدنی کے تعین کی بات کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو عملی صورت حال کچھ یوں ہوگی:
- سالانہ کاروبار: 10 کروڑ روپے
- واجب الادا ٹیکس: 10 لاکھ روپے
- قابلِ انتساب آمدنی: 10 لاکھ × 100 ÷ 35 = 28 لاکھ 50 ہزار روپے
- حقیقی منافع: 30 لاکھ روپے
مصنف کے مطابق حقیقی منافع کا بالکل 28 لاکھ 50 ہزار روپے ہونا عملاً ممکن نہیں۔
اگر کسی ٹیکس دہندہ کا حقیقی منافع 30 لاکھ روپے یا 28 لاکھ 50 ہزار روپے سے زیادہ ہو تو اضافی رقم لازماً کسی نہ کسی اثاثے کی صورت میں اس کے پاس موجود ہوگی۔ ایسی صورت میں دو امکانات پیدا ہوتے ہیں:
الف) اگر 30 لاکھ روپے حقیقی منافع اور 28 لاکھ 50 ہزار روپے قابلِ انتساب آمدنی کے درمیان ڈیڑھ لاکھ روپے کا فرق ہو تو یہ رقم غیر وضاحت شدہ آمدنی شمار ہوگی۔ اگر ٹیکس دہندہ اسے قانونی حیثیت دینا چاہے تو اسے اس ڈیڑھ لاکھ روپے پر 35 فیصد کے حساب سے مزید ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو ٹیکس حکام اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکیں گے جب تک کسی تیسرے فریق کی معلومات کے ذریعے متعلقہ اثاثہ سامنے نہ آ جائے۔ مصنف کے نزدیک یہ نظام غیر منطقی اور ناقابلِ عمل ہے۔
یا
ب) اگر ٹیکس دہندہ کو 30 لاکھ روپے کے حقیقی منافع کا مکمل کریڈٹ دینے کی اجازت دے دی جائے تو ڈیڑھ لاکھ روپے کے فرق پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں بنے گا، اور اگر یہ رقم اسی سال کے گوشوارے میں آمدنی کے طور پر ظاہر کر دی جائے تو اسے بھی ٹیکس ادا شدہ ذرائع سے حاصل شدہ اثاثہ تصور کیا جائے گا۔
مصنف کے مطابق یہ مسئلہ نیا نہیں۔ ایسا ہی معاملہ اس وقت بھی سامنے آیا تھا جب منسوخ شدہ انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 کی شق 80C کے ذریعے یہی قیاسی ٹیکس نظام متعارف کرایا گیا تھا۔
مصنف لکھتے ہیں کہ اوپر بیان کردہ پہلی صورت (الف) سے متعلق یہی اصول شق 80C(5) میں درج تھا، جس کے مطابق اگر کوئی ٹیکس دہندہ شق 13 کے تحت کسی رقم، سرمایہ کاری، اثاثے یا اخراجات کے ماخذ کی وضاحت کرتے ہوئے ایسی آمدنی کو بنیاد بنائے جس پر شق 80C کے تحت ٹیکس ادا کیا جا چکا ہو، تو اسے صرف اتنی ہی آمدنی کا کریڈٹ دیا جائے گا جس پر عام ٹیکس کی شرح سے ٹیکس ادا کرنے کی صورت میں، شق 80C کے تحت ادا کیے گئے ٹیکس کے برابر ٹیکس بنتا ہو۔ یہ شق اسی تضاد کو دور کرنے کی کوشش تھی جسے مصنف کے مطابق موجودہ مجوزہ اسکیم ایک مرتبہ پھر زندہ کر رہی ہے۔
اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ قواعد میں شامل قابلِ انتساب آمدنی کا تصور وہ نہیں جو منسوخ شدہ شق 80C(5) میں تھا، تو اس سے ٹیکس دہندگان کو عملاً کھلی چھوٹ (کارت بلانش) مل جائے گی اور ایک ایسا بڑا غیر دستاویزی اثاثہ جاتی طبقہ وجود میں آئے گا جسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔ مصنف کے مطابق یہ ماضی کی کسی بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے زیادہ وسیع ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر یہ تشریح اختیار کی جائے کہ قابلِ انتساب آمدنی سے زائد منافع پر معمول کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹرن اوور پر ایک فیصد کی رعایتی شرح صرف اسی صورت میں دستیاب ہوگی جب ریٹیلر کا منافع ٹرن اوور کے 2.85 فیصد تک محدود ہو۔ اس سے زائد منافع پر معمول کی ٹیکس شرح لاگو ہوگی۔ مصنف کے نزدیک یہ تشریح بھی قابلِ عمل دکھائی نہیں دیتی۔
مصنف کے مطابق اس مسئلے کا کوئی مکمل اور واضح حل موجود نہیں۔ تاہم ان کی رائے ہے کہ حکومت درحقیقت ایک کھلی ایمنسٹی دینا چاہتی ہے، اگرچہ اسے براہِ راست اس انداز میں بیان نہیں کیا گیا۔ قواعد سے جو تاثر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ کھاتے اس انداز میں مرتب کیے جائیں کہ منافع ٹرن اوور کے 2.85 فیصد سے زیادہ ظاہر نہ ہو۔ مصنف کے نزدیک یہ تصور غیر منطقی اور ناقابلِ قبول ہے۔
ایک اور بنیادی سوال یہ ہے کہ آمدنی کے گوشوارے کے ساتھ جمع کرائی جانے والی بیلنس شیٹ میں ٹیکس دہندہ منافع کس بنیاد پر ظاہر کرے گا۔ عملی طور پر یہ حقیقی منافع ہی ہونا چاہیے۔ اگر ایسا کیا جائے تو، جہاں حقیقی منافع قابلِ انتساب آمدنی سے زیادہ ہوگا، وہاں بیلنس شیٹ میں غیر وضاحت شدہ اثاثے سامنے آئیں گے۔
اگر یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ اس فرق پر اسی سال 29 فیصد بنیادی ٹیکس کے ساتھ 8 فیصد اضافی ٹیکس یعنی مجموعی طور پر 35 فیصد ادا کرنا ہوگا، تو قواعد میں ایسی کسی طریقۂ کار کی صراحت موجود نہیں۔ اس تشریح کی صورت میں 28 لاکھ 50 ہزار روپے تک کی آمدنی پر ٹرن اوور کے ایک فیصد کے مساوی ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ 30 لاکھ اور 28 لاکھ 50 ہزار روپے کے درمیان ڈیڑھ لاکھ روپے کے فرق پر 35 فیصد کے حساب سے 52 ہزار 500 روپے اضافی ٹیکس بنتا ہے۔ مصنف کے مطابق قواعد میں ایسا پیچیدہ ڈھانچہ بھی کہیں تجویز نہیں کیا گیا۔
حکومت کو معاشی اور مالی نقصان
مصنف کے مطابق بظاہر یہ اسکیم ریٹیلرز کے لیے قیاسی ٹیکس نظام ہے، لیکن عملی طور پر، جیسا کہ آئندہ حصوں میں وضاحت کی گئی ہے، یہ ایک پوشیدہ ٹیکس ایمنسٹی بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ریٹیلرز بلکہ صنعت کاروں اور درآمد کنندگان کی انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی ادائیگی میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
(جاری ہے)
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments