وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم، 65 سال تک کے افراد سے قرض درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں
- اس اسکیم کا مقصد ملک میں ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد گھروں کی موجودہ کمی کو پورا کرنا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کے روز بتایا کہ کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جن تمام پاکستانی شہریوں کے نام پر کوئی مکان موجود نہیں، وہ وزیراعظم کی سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے اہل ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد گھروں کی موجودہ کمی کو پورا کرنا ہے۔
یہ بات اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اسلامک فنانس گروپ، غلام محمد عباسی نے ”وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا“ کے عنوان سے منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ بینک وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر کے افراد سے ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں وصول کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے لیے کسی بھی پیشے کو منفی یا نااہل قرار نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صحافی، وکلا، ججز، پالیسی ساز، فوجی اہلکار اور دیگر تمام پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے اس اسکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی (اوورسیز پاکستانی) بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں۔
اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر ایک قرض کے لیے درخواست دے سکتے ہیں تاکہ قرض کی واپسی کی شرائط پوری کی جا سکیں۔زیادہ عمر کے افراد اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ شراکت داری میں درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ملازمت کرتے ہوں اور ان کی کوئی آمدنی ہو۔
غلام محمد عباسی نے کہا کہ تنخواہ کی سلپ رکھنے والے یا نہ رکھنے والے، دونوں طرح کے افراد درخواست دینے کے اہل ہیں، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی ماہانہ آمدنی کتنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کم آمدنی والے طبقے سمیت ہر شخص کو اپنا گھر فراہم کیا جائے۔ قرض کی ماہانہ قسط قرض لینے والے کی تنخواہ کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، بہت سے درخواست گزاروں کی باضابطہ تنخواہ کے علاوہ بھی آمدنی کے دیگر ذرائع موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 50 ہزار (150,000) ہاؤسنگ قرضے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے موجودہ مالی سال میں ان قرضوں پر سبسڈی دینے کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر قرض 20 سال کی زیادہ سے زیادہ مدت کے لیے حاصل کیا جائے تو آخری 10 سال میں بینک قرض پر مارکیٹ کی بنیاد پر منافع وصول کریں گے۔
غلام محمد عباسی نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے تحت قرض کی درخواست پر بینک کوئی پراسیسنگ فیس وصول نہیں کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ 2025 سے اب تک بینکوں کو مجموعی طور پر ایک لاکھ سات ہزار (107,000) درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد درخواستیں ستمبر 2025 کے بعد جمع کرائی گئیں، جب اسکیم میں ترمیم کرتے ہوئے قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے (10 ملین روپے) کر دی گئی تھی اور قرض کی واپسی کے پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد رعایتی شرح منافع مقرر کی گئی تھی۔
موصولہ درخواستوں میں سے 27 ہزار سے زائد درخواست گزاروں کے قرض منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ 13 ہزار درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 30 جون 2026 تک بینک تقریباً 6 ہزار سے زائد ہاؤسنگ قرضے جاری کر چکے ہیں، جن کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے (4.8 ملین روپے) ہے، جبکہ مجموعی طور پر 26 ارب روپے کے قرضے اس اسکیم کے تحت تقسیم کیے جا چکے ہیں۔“
انہوں نے مزید بتایا کہ 30 جون 2026 تک بینکوں کے ذمے ہاؤسنگ فنانس کے 293 ارب روپے کے قرضے واجب الادا تھے، جو 65,414 قرض لینے والوں کو دیے گئے تھے۔اس حساب سے فی قرض کا اوسط حجم تقریباً 45 لاکھ روپے (4.5 ملین روپے) بنتا ہے۔
غلام محمد عباسی نے کہا کہ اس وقت 70 سے 80 فیصد ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے جلد ہی علیحدہ اور مخصوص آن لائن پورٹل متعارف کرائے جانے کے بعد آن لائن درخواستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہاؤسنگ فنانس پورٹ فولیو میں ہونے والے قرضوں کے نقصانات کا ابتدائی 10 فیصد خود برداشت کرے گی۔ان کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے نان پرفارمنگ لونز (این پی ایلز) کی شرح 5.6 فیصد ہے۔




















Comments