BR100 Decreased By (-1%)
BR30 Decreased By (-1.56%)
KSE100 Decreased By (-0.95%)
KSE30 Decreased By (-1.02%)
BAFL 55.62 Increased By ▲ 0.41 (0.74%)
BIPL 23.90 Decreased By ▼ -0.27 (-1.12%)
BOP 27.25 Decreased By ▼ -0.67 (-2.4%)
CNERGY 12.40 Increased By ▲ 0.05 (0.4%)
DFML 15.75 Decreased By ▼ -0.43 (-2.66%)
DGKC 175.40 Decreased By ▼ -2.81 (-1.58%)
FABL 90.13 Decreased By ▼ -0.28 (-0.31%)
FCCL 49.78 Decreased By ▼ -0.24 (-0.48%)
FFL 13.39 Decreased By ▼ -0.24 (-1.76%)
GGL 18.75 Decreased By ▼ -0.20 (-1.06%)
HBL 282.80 Decreased By ▼ -2.95 (-1.03%)
HUBC 187.40 Decreased By ▼ -3.24 (-1.7%)
HUMNL 8.03 Decreased By ▼ -0.26 (-3.14%)
KEL 5.51 Decreased By ▼ -0.12 (-2.13%)
LOTCHEM 23.00 Decreased By ▼ -0.93 (-3.89%)
MLCF 86.80 Decreased By ▼ -0.74 (-0.85%)
OGDC 298.04 Decreased By ▼ -2.46 (-0.82%)
PAEL 32.06 Decreased By ▼ -0.71 (-2.17%)
PIBTL 12.53 Decreased By ▼ -0.33 (-2.57%)
PIOC 222.05 Decreased By ▼ -5.63 (-2.47%)
PPL 210.00 Decreased By ▼ -4.20 (-1.96%)
PRL 94.18 Decreased By ▼ -0.94 (-0.99%)
SNGP 89.45 Decreased By ▼ -1.20 (-1.32%)
SSGC 22.55 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 6.69 Decreased By ▼ -0.05 (-0.74%)
TPLP 11.51 Increased By ▲ 0.23 (2.04%)
TRG 52.27 Decreased By ▼ -2.46 (-4.49%)
UNITY 7.61 Decreased By ▼ -0.08 (-1.04%)
WTL 0.90 No Change ▼ 0.00 (0%)

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو کہا ہے کہ وہ معاشی روابط کو آگے بڑھانے کے لیے آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی تجارتی حکمتِ عملی کا نئے سرے سے جائزہ لے رہا ہے جس کی وجہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ معاہدے اور بنگلہ دیش کا واشنگٹن کے ساتھ ہونے والا سمجھوتہ ہے جس نے مقامی صنعت میں بے چینی پیدا کردی ہے۔

وفاقی چیمبر کے ریجنل آفس لاہور میں پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صنعتکاروں کو بتایا کہ میں آئندہ ہفتے امریکہ روانہ ہورہا ہوں، امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات کس طرح کرنے ہیں، اس حوالے سے آپ کی تمام سفارشات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے مقامی صنعت کو اپنا ریونیو ماڈل تبدیل کرنے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مطالبات سے مکمل طور پر متفق ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اب ایک نیو ورلڈ آرڈر میں رہ رہے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق امریکا بدستور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 18 فیصد، یعنی تقریباً 5.8 ارب ڈالر امریکا کو برآمد کیا گیا۔

امریکی مارکیٹ کو ہونے والی پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 82 فیصد ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے۔ یہ بھاری انحصار امریکی تجارتی پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور امریکی مارکیٹ تک بلا تعطل رسائی برقرار رکھنے کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

چند روز قبل پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے امریکہ کے ساتھ بہتر تجارتی انتظامات کے لیے حکومت سے رجوع کیا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھا ہے جبکہ اپٹما نے بھی وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کو مراسلہ بھیجا ہے۔

دریں اثنا وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہفتے کو کہا کہ پاکستان وقفے وقفے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرتا رہتا ہے کیونکہ ادائیگیوں کا توازن ہماری معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اسی لیے ہمیں ایسی ترقی کی ضرورت ہے جس کی بنیاد برآمدات پر مبنی ہو۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ معیشت نے استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ منزل بڑی مشکل سے حاصل ہوئی ہے۔

Comments

Comments are closed.