2035 تک آبادی میں اضافے کی شرح نصف کرنے کا ہدف ہے،وزیراعظم
- شہباز شریف نے فوری طور پر قومی آبادی کونسل کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو تیزی سے بڑھتی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں آبادی بہبود سے متعلق ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے آبادی پر قابو پانے کو قومی فریضہ قرار دیا اور اس مقصد کے لیے صوبوں کے ساتھ مؤثر رابطہ، تعاون اور عوامی آگاہی مہم کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی تاکہ ملک کی پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر قومی آبادی کونسل کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے، جہاں آبادی سے متعلق ایک جامع قومی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو آبادی کے رجحانات اور قومی آبادی کونسل کے اجلاس کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ قومی آبادی کونسل سیکریٹریٹ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت قومی استحکام منصوبہ 2026ء تا 2035ء تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں آبادی میں اضافے کی شرح کو کم کرنا ہے۔
منصوبے کے تحت پاکستان کا ہدف موجودہ 2.55 فیصد آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح کو 2035 تک کم کرکے 1.25 فیصد تک لانا ہے۔
نئے قومی فریم ورک میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، سماجی تحفظ اور خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ حکومت نے متعدد وفاقی سماجی تحفظ کے پروگراموں کو آبادی بہبود سے متعلق شرائط کے ساتھ منسلک کرنے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔




















Comments