مطالبات کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی
- حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اب پاکستان بھارت کے خلاف 15 فروری کا میچ شیڈول کے مطابق کھیلے گا
وزیراعظم شہبازشریف نے قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی۔
حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اب پاکستان بھارت کے خلاف 15 فروری کا میچ شیڈول کے مطابق کھیلے گا۔
وزیراعظم آفس کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن رضا نقوی نے پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نمائندوں اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی بات چیت کے نتائج کے بارے میں باضابطہ طور پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ فیصلہ کرکٹ کی روح کے تحفظ، اس عالمی کھیل کے تسلسل کی حمایت اور اس میں شریک تمام ممالک کی خاطر لیا گیا ہے۔ آئی سی سی اور دوست ممالک کی درخواست پر پاکستان نے فیصلہ تبدیل کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اس معاملے پر بنگلہ دیش کرکٹ کی درخواست کے علاوہ سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی جانب سے کیے گئے رابطوں کا جائزہ لیا جس میں حالیہ مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے قائدانہ کردار کی درخواست کی گئی تھی۔
بیان میں وزیراعظم اور پاکستانی قوم کی جانب سے گرین شرٹس کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ہے کہ قومی ٹیم بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ میدان میں اتر کر ایونٹ میں فتح یاب ہر کر لوٹے گی۔
عالمی کرکٹ کونسل نے پاکستان کے مطالبات تسلیم کرلیے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پی سی بی اور بی سی بی کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات جاری کردیں۔
ایک بیان میں آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 مس کرنے پر بنگلادیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا، اسے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ 2028 سے 2031 کے درمیان ایک ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔
بی سی بی اور ایس ایل سی کی پاکستان سے میچ کھیلنے کی درخواست
قبل ازیں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) نے عالمی کرکٹ کے وسیع تر مفاد اور علاقائی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان سے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست کی تھی۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے اعلامیے میں پاکستان سے 15 فروری کو بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں شرکت کی درخواست کی ۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے اعلامیے میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں بھرپور تعاون اور کھیل کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔
بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور کھیلوں کے فروغ کے لیے پاکستان سے مثبت کردار کی توقع کی جاتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی امید ہے اور یہ اقدام دونوں ممالک کے کرکٹ سسٹم کے مفاد میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
بی سی بی نے واضح کیا کہ یہ تعلقات نہ صرف کھیل کے فروغ بلکہ عوامی سطح پر بھی باہمی احترام اور اتحاد کی مثال قائم کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں سری لنکا کے صدر انورا کمار دسّنایکے نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے درخواست کی کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان شیڈول میچ سری لنکا میں کھیلا جائے۔
صدر دسّنایکے نے پاکستان کی سری لنکن کرکٹ کی دہشت گردی کے دور میں مدد کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سری لنکا کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کو ترجیح دی اور سنگین سیکیورٹی خطرات کے باوجود سری لنکا کے دورے کیے تاکہ کرکٹ جاری رہ سکے۔






















Comments