گورنر سندھ نے کے الیکٹرک سی ای او کے خلاف صوبائی محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
- دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہ باب اپنے درست انجام کو پہنچا، مونس علوی
گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے صوبائی محتسب کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں کےالیکٹرک لمیٹڈ (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کو ورک پلیس ہراسمنٹ کیس میں ملوث ہونے کی بنیاد پر ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔
کے الیکٹرک نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔
نوٹس نے کہا گیا کہ ہم مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ گورنر سندھ نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف ایکٹ 2010 (بشمول وقتاً فوقتاً ہونے والی ترامیم) کے سیکشن 9 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے متعلقہ فریقین کے دلائل سننے اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کردیا اور صوبائی محتسب سندھ کے 31 جولائی 2025 کے متنازع حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔
جولائی 2025 میں صوبائی محتسب نے سید مونس علوی کو ورک پلیس ہراسمنٹ کیس میں ملوث ہونے پر کے الیکٹرک کے سی ای او کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ مونس علوی نے محتسب کے فیصلے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ فیصلے میں دیے گئے نتائج اس سچائی کی عکاسی نہیں کرتے جو میں نے خود محسوس کی۔
سندھ ہائی کورٹ نے ایک ہی دن میں صوبائی محتسب کے حکم کو معطل کردیا تھا۔
بعد ازاں مونس علوی نے صوبائی محتسب کے حکم کے خلاف گورنر سندھ کے دفتر میں ایک اپیل دائر کی تھی۔
گورنر کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کے الیکٹرک کے سی ای او نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ الحمدللہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہ باب اپنے درست انجام کو پہنچا۔ میں اپنے تمام اہل خانہ اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جو اس مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے۔






















Comments