BR100 Decreased By (-0.33%)
BR30 Decreased By (-0.3%)
KSE100 Decreased By (-0.18%)
KSE30 Decreased By (-0.01%)
BAFL 56.70 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.29 Decreased By ▼ -0.39 (-1.16%)
CNERGY 10.20 Increased By ▲ 0.39 (3.98%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 207.82 Decreased By ▼ -0.05 (-0.02%)
FABL 97.55 Decreased By ▼ -1.35 (-1.37%)
FCCL 53.49 Decreased By ▼ -0.03 (-0.06%)
FFL 16.34 Decreased By ▼ -0.34 (-2.04%)
GGL 23.70 Increased By ▲ 0.13 (0.55%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -1.39 (-0.46%)
HUBC 217.75 Decreased By ▼ -0.36 (-0.17%)
HUMNL 10.45 Decreased By ▼ -0.21 (-1.97%)
KEL 7.19 Decreased By ▼ -0.16 (-2.18%)
LOTCHEM 28.70 Decreased By ▼ -0.41 (-1.41%)
MLCF 95.20 Decreased By ▼ -0.30 (-0.31%)
OGDC 319.00 Increased By ▲ 1.06 (0.33%)
PAEL 41.29 Decreased By ▼ -0.54 (-1.29%)
PIBTL 16.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.61%)
PIOC 293.20 Increased By ▲ 13.19 (4.71%)
PPL 221.97 Increased By ▲ 2.23 (1.01%)
PRL 47.69 Increased By ▲ 3.10 (6.95%)
SNGP 106.67 Decreased By ▼ -0.82 (-0.76%)
SSGC 28.70 Decreased By ▼ -0.23 (-0.8%)
TELE 8.78 Increased By ▲ 0.02 (0.23%)
TPLP 12.25 Increased By ▲ 0.15 (1.24%)
TRG 59.69 Decreased By ▼ -0.34 (-0.57%)
UNITY 10.01 Decreased By ▼ -0.10 (-0.99%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

بلوچستان آپریشنز: مزید 22 دہشت گرد مارے گئے، 3 روز کے دوران ہلاکتیں 177 ہوگئیں

  • وزیرِ داخلہ کی سیکیورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف
شائع اپ ڈیٹ

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مزید کم از کم 22 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا، جس کے بعد تین روز کے دوران صوبے بھر میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 177 ہو گئی ہے۔

آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق فتنہ ہندوستان گروپ کو نشانہ بنانے والی یہ جاری کلیئرنس کارروائیاں پولیس سمیت سیکیورٹی اداروں کی جانب سے صوبے بھر میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کو ختم کرنے کی ایک مربوط کوشش ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات تعاقب کے دوران مزید 22 دہشت گرد مارے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے بعد دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی کل تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔

سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس اداروں اور پولیس نے مربوط مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ مرحلہ وار طریقے سے علاقوں کو کلیئر کرتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے مزید اشارہ دیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کی مزید ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن کی حتمی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے پیر کو فوج کے حوالے سے بتایا کہ دہشت گردوں نے اس بے چین صوبے میں مربوط حملوں کے سلسلے میں اسکولوں، بینکوں اور سیکیورٹی تنصیبات پر دھاوا بولا، جس میں تقریباً 50 افراد شہید ہوئے۔ ہفتے کے آخر میں ہونے والے ان حملوں نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو تقریباً مفلوج کر دیا تھا، جب علیحدگی پسند بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک میں درجن بھر مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں 17 سیکیورٹی اہلکار اور 31 شہری شہید ہوئے۔

حکام نے بلوچستان میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ سیکیورٹی آپریشن دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ حکومتِ پاکستان اور فوج کا کہنا ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کو بھارت سے مدد حاصل ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں فتنہ ہندوستان کے مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے مطابق وزیرِ داخلہ نے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔

دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کامیاب آپریشن میں شامل اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے محسن نقوی نے ریمارکس دیے کہ سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ کوششوں نے بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر بے حد فخر ہے۔حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے زور دیا کہ فتنہ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور حکام بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

Comments

200 حروف