BR100 Increased By (0.75%)
BR30 Increased By (0.55%)
KSE100 Increased By (0.68%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.30 (0.52%)
BIPL 27.15 Increased By ▲ 0.26 (0.97%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.54 (1.6%)
CNERGY 10.79 Increased By ▲ 0.18 (1.7%)
DFML 18.12 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
DGKC 209.62 Decreased By ▼ -0.28 (-0.13%)
FABL 101.04 Increased By ▲ 2.09 (2.11%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 1.01 (1.88%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 25.17 Increased By ▲ 1.35 (5.67%)
HBL 304.00 Increased By ▲ 1.58 (0.52%)
HUBC 220.24 Increased By ▲ 1.30 (0.59%)
HUMNL 10.53 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 29.75 Increased By ▲ 0.10 (0.34%)
MLCF 95.75 Decreased By ▼ -0.61 (-0.63%)
OGDC 318.29 Increased By ▲ 0.07 (0.02%)
PAEL 42.91 Increased By ▲ 1.14 (2.73%)
PIBTL 16.86 Increased By ▲ 0.05 (0.3%)
PIOC 298.99 Increased By ▲ 2.37 (0.8%)
PPL 221.44 Increased By ▲ 1.27 (0.58%)
PRL 51.60 Increased By ▲ 2.55 (5.2%)
SNGP 106.74 Increased By ▲ 0.61 (0.57%)
SSGC 28.55 Decreased By ▼ -0.59 (-2.02%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.05 (0.57%)
TPLP 12.94 Increased By ▲ 0.43 (3.44%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.66 Increased By ▲ 0.64 (6.39%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
کاروبار اور معیشت

تاجر برادری کا برآمدی صنعت کے لیے وزیراعظم کے نئے مراعاتی پیکیج کا خیرمقدم

  • برآمدی صنعت کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے زیرو پرسنٹ جی ایس ٹی نظام کی ضرورت ہے، ادیب اقبال شیخ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن(پی آر جی ایم ای اے) نارتھ زون کے سابق چیئرمین ادیب اقبال شیخ نے ایک بیان میں برآمدی صنعت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ مراعاتی پیکیج کا خیر مقدم کیا ہے۔ کاروباری طبقے نے اس اقدام کو ملکی مینوفیکچرنگ سیکٹر کی بحالی اور عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب پاکستان کی برآمدی صنعت کو بھارت اور یورپی یونین کے درمیان متوقع آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد عالمی خریدار بھارت کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ٹیکسٹائل، چمڑے اور لائٹ انجینئرنگ کے شعبوں میں پاکستان کا مارکیٹ شیئر بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مفادات کے تحفظ کے لیے فوری پالیسی سازی کی جائے۔ انہوں نے ایک مخصوص ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کنندگان کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو برقرار رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت یورپی یونین معاہدے کے بعد صرف جی ایس پی پلس کافی نہیں ہوگا بلکہ ہمیں مزید ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

ادیب اقبال شیخ کے مطابق برآمدی صنعت کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے زیرو پرسنٹ جی ایس ٹی نظام کی ضرورت ہے۔ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برآمد کنندگان کے منافع کو کم کر رہا ہے۔

مزید برآں انہوں نے بنگلہ دیش کے ماڈل کی طرز پر لیبر قوانین میں اصلاحات کی تجویز دی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔ بنگلہ دیش نے لچکدار لیبر قوانین کے ذریعے گارمنٹ سیکٹر میں نمایاں ترقی کی ہے اور پاکستان میں ایسی ہی اصلاحات سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

تاجر برادری نے واضح کیا کہ حکومتی اقدامات کا اصل دارومدار ان کے فوری نفاذ پر ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آج کیے گئے فیصلے پاکستان کی مستقبل کی معاشی سمت کا تعین کریں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026

Comments

200 حروف