انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 49 ہوگئیں، 15 افراد تاحال لاپتہ
- ہنگامی امدادی کارروائیوں کی مدت میں 7 دن کی توسیع کردی گئی
انڈونیشیا کے مغربی صوبے جاوا میں ایک ہفتہ قبل آنے والے لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 49 ہوگئی, ملک کی مرکزی ریسکیو ایجنسی بسرناس نے ہفتے کو بتایا کہ 15 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
بحریہ نے منگل کو بتایا کہ بارڈر پٹرولنگ (سرحدی نگرانی) کی تربیت کے دوران 23 فوجی بھی ہلاک ہوگئے۔
24 جنوری کو مغربی بنڈونگ کے گاؤں پاسیر لانگو میں آنے والی لینڈ سلائیڈنگ شدید بارشوں کے باعث پیش آئی۔ یہ لینڈ سلائیڈنگ گزشتہ سال کے آخر میں سماٹرا کے جزیرے پر آنے والے سمندری طوفان سے پیدا ہونے والے سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے بعد ہوئی ہے جن میں 1,200 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد رہائشی بے گھر ہوئے تھے۔
ریسکیو ادارے نے ہنگامی امدادی کارروائیوں کی مدت میں 7 دن کی توسیع کردی جو اب 6 فروری تک جاری رہے گی۔
بدھ کو ایک پارلیمانی پینل نے بسرناس کے فنڈز میں کٹوتی کردی، باوجود اس کے کہ ملک کو درپیش آفات کی بڑی تعداد اور ان سے نمٹنے کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔
























Comments