عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
خام تیل کی قیمتوں میں جمہ کو 1 امریکی ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا اور وہ ایک بڑے ماہانہ اضافے کی جانب گامزن تھیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ کچھ تیل بردار جہازوں (ٹینکرز) کو آبنائے ہرمز میں واپس مڑنے پر مجبور کیا گیا جس کے باعث تاجر اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری آمدورفت (شپنگ فلو) کا ازسرنو جائزہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت میں 1.01 امریکی ڈالر، یعنی 1.1 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 90.04 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی دوران امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 1.28 امریکی ڈالر، یعنی 1.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 84.87 امریکی ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔
جولائی میں برینٹ (Brent) اور ڈبلیو ٹی آئی (WTI) میں 24 فیصد اضافے کی توقع تھی جو مارچ کے بعد ان کا ایک ماہ کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
28 فروری کو شروع ہونے والی ایران جنگ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک میں نمایاں کمی کردی ہے۔ اس آبنائے سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی لیکن اب اس میں رکاوٹ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی پیداوار اور رسد متاثر ہورہی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مختصر وقفے کے بعد ایک دوسرے پر دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس سے جنگ بندی کا یہ عارضی وقفہ ختم ہوگیا ہے۔
مزید برآں یمن میں حوثی ملیشیا کی فورسز نے بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملانے والی آبنائے باب المندب کے ذریعے ہونے والی بحری تجارت میں بھی خلل پیدا کیا جس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک اور اہم اور حساس راستہ متاثر ہوا ہے۔
تحقیقی ادارے گلبر اینڈ ایسوسی ایٹ نے ایک نوٹ میں لکھا کہ ایرانی فوجی اہداف پر امریکہ کے تازہ حملوں نے آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں کے قریب جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث پیدا ہونے والے اضافی خطرے کے پریمیم کو برقرار رکھا ہے۔ ملکی سطح پر تیل کی رسد بھی اس صورتحال کو مزید تقویت دے رہی ہے کیونکہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر کئی سال کی کم ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
اس نوٹ میں امریکی ادارے ای آئی اے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا تھا جن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں تجارتی خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 2018 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔




















Comments