رسد سے متعلق خدشات، خام تیل کی قیمتیں مستحکم
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز 7 سینٹ یا 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 65.81 ڈالر فی بیرل پر آگئے
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی رد و بدل دیکھا گیا، تاہم گزشتہ سیشن میں 2 فیصد سے زائد اضافے کے بعد قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔ رسد سے متعلق خدشات نے قیمتوں کو سہارا دیا، حالانکہ امریکی تیل پیدا کرنے والے بڑے علاقوں میں پیداوار متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 7 سینٹ یا 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 65.81 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 6 سینٹ یا 0.1 فیصد کمی کے بعد 61.01 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس نے گزشتہ ہفتے تقریباً 2.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا تھا اور جمعہ کو 14 جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا میں خراب موسم کے باعث یومیہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ جے پی مورگن کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شدید سردی اور برفانی طوفان کے باعث بیکن فیلڈ اور ٹیکساس کے کچھ حصوں میں پیداوار میں کمی آئی، جبکہ گیس اور تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں عارضی بندشوں سے سپلائی چین دباؤ میں ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ اور دیگر فوجی وسائل آئندہ دنوں میں خطے میں پہنچنے والے ہیں، جس سے جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مارکیٹ میں رسد کے ممکنہ تعطل کا خدشہ پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر شامل ہو گیا ہے۔
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کو ایران کے خلاف مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ تاہم قازقستان کی کیسپین پائپ لائن کنسورشیم نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع اپنے ٹرمینل پر مرمت مکمل ہونے کے بعد لوڈنگ کی مکمل صلاحیت بحال کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اوپیک پلس یا بڑے پیداواری ممالک نمایاں پیداوار کٹوتی کا اعلان نہ کریں تو 2026 میں تیل کی منڈی بنیادی طور پر دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے، کیونکہ طویل مدت میں رسد کی بہتات کے خدشات برقرار ہیں۔
























Comments