ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش عدم شرکت کھیل کیلئے افسوسناک لمحہ ہے، بین الاقوامی کرکٹرز ایسوسی ایشن
- بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت کے ساتھ خراب سیاسی تعلقات اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹور کرنے سے انکار کردیا گیا تھا
بین الاقوامی کرکٹرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو سی اے) نے کہا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ سے بنگلہ دیش کی غیر موجودگی کھیل کے لیے ایک افسوسناک لمحہ ہے اور اس موقع کو اسٹیک ہولڈرز کے لیے کھیل کو متحد کرنے کے لیے ایک پیغام کے طور پر لینا چاہیے، نہ کہ اسے تقسیم کرنے کے جواز کے طور لیا جانا چاہیے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت کے ساتھ خراب سیاسی تعلقات اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹور کرنے سے انکار کے بعد اسکاٹ لینڈ نے 20 ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی جگہ لے لی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیش کی درخواست کو مسترد کر دیا کہ ان کے میچز شریک میزبان سری لنکا میں منتقل کیے جائیں، کیونکہ 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے قریب شیڈول تبدیل کرنا ممکن نہیں تھا۔
ڈبلیو سی اے کے چیف ایگزیکٹو ٹام موفٹ نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر ہونا اور ایک معزز کرکٹ ملک کی غیر موجودگی کھیل، کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے ایک افسوسناک لمحہ ہے جس پر گہرا غور و فکر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے رہنمائوں کو چاہیے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول گورننگ باڈیز، لیگز اور کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر کھیل کو متحد کریں، نہ کہ تقسیم کریں۔
جنوبی ایشیائی کرکٹ میں موجودہ کشیدگی بھی واضح ہو رہی ہے۔ پاکستان اگلے ٹی20 ورلڈ کپ میں سری لنکا میں اپنے تمام میچز کھیلے گا، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی نے کہا کہ ملک کی شرکت ابھی حتمی نہیں ہوئی۔
ٹام موفٹ نے مزید کہا کہ کھیل میں معاہدوں کی پابندی نہ ہونے اور کھلاڑیوں اور ان کے نمائندگان سے مناسب مشاورت نہ ہونے سے تشویش بڑھ گئی ہے، اور یہ مسائل اگر حل نہ کیے گئے تو کھیل کی اعتماد، اتحاد اور مستقبل پر منفی اثر ڈالیں گے۔






















Comments