BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Decreased By (-0.07%)
KSE100 Increased By (0.17%)
KSE30 Increased By (0.16%)
BAFL 57.01 Increased By ▲ 0.14 (0.25%)
BIPL 24.99 Increased By ▲ 0.03 (0.12%)
BOP 30.44 Increased By ▲ 0.09 (0.3%)
CNERGY 13.16 Increased By ▲ 0.04 (0.3%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 192.90 Increased By ▲ 0.45 (0.23%)
FABL 94.14 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 52.94 Increased By ▲ 0.15 (0.28%)
FFL 14.80 Increased By ▲ 0.08 (0.54%)
GGL 19.16 Decreased By ▼ -0.40 (-2.04%)
HBL 307.40 Increased By ▲ 1.30 (0.42%)
HUBC 201.95 Increased By ▲ 0.53 (0.26%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.60 Increased By ▲ 0.14 (0.53%)
MLCF 93.58 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
OGDC 315.65 Decreased By ▼ -1.08 (-0.34%)
PAEL 35.63 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIBTL 14.95 Increased By ▲ 0.27 (1.84%)
PIOC 243.68 Increased By ▲ 0.47 (0.19%)
PPL 225.50 Decreased By ▼ -1.41 (-0.62%)
PRL 93.44 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
SNGP 91.95 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
SSGC 23.89 Increased By ▲ 0.08 (0.34%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.99 Increased By ▲ 0.43 (0.76%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
مارکٹس

وینزویلا کا سیاسی بحران، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

  • یہ صورتحال ایک ایسی عالمی منڈی میں سامنے آئی ہے جہاں تیل کی فراہمی وافر مقدار میں موجود ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لیتے رہے کہ اوپیک کے رکن ملک وینزویلا میں سیاسی ہلچل آیا تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے یا نہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسی عالمی منڈی میں سامنے آئی ہے جہاں تیل کی فراہمی وافر مقدار میں موجود ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لینے کا اعلان کیا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 17 سینٹ اضافے کے ساتھ 60.92 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 11 سینٹ بڑھ کر 57.43 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ابتدائی سیشن میں قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم بعد ازاں نقصانات کسی حد تک پورے ہو گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن وینزویلا جیسے تیل پیدا کرنے والے ملک کا کنٹرول سنبھالے گا اور وینزویلا کے تیل پر امریکی پابندیاں مکمل طور پر برقرار رہیں گی۔ تاہم وینزویلا کی سرکاری آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے معاملات سے واقف ذرائع کے مطابق امریکی کارروائی سے ملک کی تیل کی پیداوار یا ریفائننگ انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی وافر سپلائی کے باعث وینزویلا کی برآمدات میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کا قلیل مدت میں قیمتوں پر محدود اثر پڑے گا۔ گولڈمین سیکس کے تجزیہ کار ڈان اسٹرائیون کی قیادت میں شائع ہونے والی 4 جنوری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا سے متعلق امریکی پابندیوں کی پالیسی میں تبدیلی کے امکانات کے باعث تیل کی قیمتوں کے لیے مختصر مدت میں غیر واضح مگر محدود خطرات موجود ہیں، تاہم ادارے نے 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کے اپنے تخمینے برقرار رکھے ہیں۔

آر بی سی کیپیٹل کی کموڈیٹیز ریسرچ کی سربراہ ہیلیما کرافٹ کے مطابق اگر مکمل پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو منظم سیاسی منتقلی کی صورت میں 12 ماہ کے دوران یومیہ چند لاکھ بیرل اضافی پیداوار ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اقتدار کی تبدیلی لیبیا یا عراق جیسی غیر مستحکم صورت اختیار کر لے تو صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔

ادھر وینزویلا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اتوار کو اعلان کیا کہ ملک کی حکومت صدر مادورو کی حمایت میں متحد رہے گی۔ اسی دوران اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک، جنہیں مجموعی طور پر اوپیک پلس کہا جاتا ہے، نے اتوار کو اپنی تیل پیداوار کی سطح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

تجزیہ کار ایران کی صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ نے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر مداخلت کی دھمکی دی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ایک ہفتے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

Comments

Comments are closed.