ایران میں مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک ہوئے، ہیومن رائٹس گروپس
- یہ مظاہرے ہفتے کے روز ملک کے کئی شہروں میں جاری رہے، جو مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف ہونے والی تحریک کا ساتواں دن تھا۔
ایران کے مغربی علاقوں میں ہفتہ کے روز مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے، دو انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق ریولوشنری گارڈز نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔
یہ مظاہرے ہفتے کے روز ملک کے کئی شہروں میں جاری رہے، جو مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف ہونے والی تحریک کا ساتواں دن تھا۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہ مظاہرے ایران میں 2022-2023 کی تحریک کے بعد سب سے اہم ہیں، جسے حکومت نے شدید کریک ڈاؤن کے ذریعے دبایا تھا، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوئے تھے۔
ناروے میں قائم ہینگاؤ حقوق گروپ نے کہا کہ مالیکشاہی ضلع، صوبہ ایلام میں ریولوشنری گارڈز نے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی، جس سے ایران کی کرد اقلیت کے چار افراد ہلاک ہوئے۔ گروپ نے مزید کہا کہ دو دیگر افراد کے ہلاک ہونے کی رپورٹس کی تصدیق کی جارہی ہے اور درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایران ہیومن رائٹس این جی او نے بھی مالیکشاہی میں سکیورٹی فورسز کے مظاہروں پر حملے کے بعد کم از کم چار افراد کے ہلاک اور 30 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے زمین پر خون میں لت پت لاشوں کی ویڈیوز بھی جاری کیں، جن کی فوری تصدیق ممکن نہیں تھی۔
مظاہروں نے ملک کے کم و بیش 30 شہروں کو متاثر کیا، زیادہ تر درمیانے سائز کے شہر، جبکہ سرکاری رپورٹس کے مطابق بدھ سے اب تک جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
امریکی انسانی حقوق کے مشاہداتی ادارے نے بتایا کہ پچھلے سات دنوں میں ایران کے 25 صوبوں کے 60 شہروں میں کم از کم 174 مظاہروں کی رپورٹ موصول ہوئی، اور اس دوران 582 افراد گرفتار اور کم از کم 15 مظاہرین ہلاک ہوئے۔
مظاہروں کا آغاز پچھلے ہفتے تہران بازار میں تاجروں کی ہڑتال کے بعد ہوا، جو ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، اور بعد ازاں یہ دیگر علاقوں اور یونیورسٹیوں تک پھیل گئے۔
اقوام متحدہ کی ایران میں انسانی حقوق کی خصوصی رپورٹر مائی ساتو نے جمعہ کو کہا کہ رپورٹس میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان بڑھتے تصادم کی نشاندہی کی گئی ہے اور 2022-2023 کے دوران ہونے والے پرتشدد ردعمل کو دہرانے سے روکنے کی ضرورت ہے۔






















Comments