اقتصادی رابطہ کمیٹی نے طویل تاخیر کے شکار 5G اسپیکٹرم نیلامی کی منظوری دے دی
- حکومت فروری 2026 میں متوقع نیلامی کے لیے 600 میگاہرٹز اسپیکٹرم پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای ای سی ) نے طویل عرصے سے التوا کا شکار فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی نے نیلامی مشاورتی کمیٹی (اے اے سی) کی کلیدی سفارشات کو بھی منظور کیا ہے جن میں نیلامی کے دن مقرر کردہ ڈالر سے منسلک قیمتیں، 50 فیصد رقم کی فوری ادائیگی (اپ فرنٹ) جبکہ بقیہ رقم کی 5سالوں میں ادائیگی اور نئے اسپیکٹرم بینڈز کی قیمتوں کے تعین کے لیے علاقائی بینچ مارکس کا استعمال شامل ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت یہاں منعقد ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد باوثوق ذرائع نے یہ معلومات فراہم کیں۔
حکومت فروری 2026 میں متوقع نیلامی کے لیے 600 میگاہرٹز اسپیکٹرم پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاہم ٹیکس ریلیف یا اسپیکٹرم کی ادائیگیوں کے لیے 10 سالہ بلا سود اقساط کے منصوبے کے حوالے سے فی الحال کسی سفارش کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نئے بینڈز بشمول 2600 میگا ہرٹز، 700 میگا ہرٹز، 3500 میگا ہرٹز اور 2100 میگا ہرٹز کی قیمتیں مقرر کی جائیں گی، جس میں خطے میں موجودہ معیار (بینچ مارک) کو مدنظر رکھا جائے گا۔
اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی نے امریکی بین الاقوامی مشاورتی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (نیرا) کو پاکستان نے فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے مقرر کیا تھا جس نے اپنی رپورٹ اے اے سی کو پیش کی تھی۔ رپورٹ میں کم قیمتیں اور ادائیگی کی مدت بڑھانے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔
کنسلٹنٹ نے خبردار کیا کہ اسپیکٹرم کی زیادہ قیمتیں مارکیٹ میں پلیئرز کی تعداد کم کرسکتی ہیں اور مقابلے کو کمزور کrسکتی ہیں جس کے نتیجے میں جدت کاری میں کمی، قیمتوں میں اضافہ اور صارفین کے لیے دیگر منفی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
کنسلٹنٹ نے ادائیگی کی شرائط میں توسیع کی بھی سفارش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹ ورکس اور سسٹمز میں درکار بھاری سرمایہ کاری کے پیشِ نظر، ادائیگی کی مدت کو طویل کرنے کی ضرورت ہے (جیسا کہ ویتنام، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش وغیرہ میں کیا گیا ہے)۔ اس کے علاوہ، 3.5 گیگا ہرٹز بینڈ (جو کہ صرف فائی جی کے لیے مخصوص ہے) کے حوالے سے اضافی مراعات کی ضرورت پڑ سکتی ہے، چاہے فائیو جی فکسڈ وائرلیس ایکسیس کے مواقع میں اضافہ ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔
پی ٹی اے نے بھی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے کم قیمتوں کی حمایت کی تھی، جس کا مقصد اس شعبے میں سرمایہ کاری کو متوجہ کرنا اور ٹیلی کام سروسز کو بہتر بنانے کے لیے رول آؤٹ کی ذمہ داری پر زیادہ توجہ دینا تھا۔
ای سی سی کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ منظوری حکومت کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو تیز کرنے اور ٹیلی کام شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سفارشات شفاف، مقابلہ جاتی اور سرمایہ کار دوست نیلامی کے فریم ورک کو یقینی بنانے کے ساتھ صارفین کے مفادات اور مالیاتی پہلوؤں کا تحفظ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ای سی سی نے نیلامی کے لیے اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے، جو جلد کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔
منظوری سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو اگلے اقدامات، بشمول نیلامی کے قواعد اور ٹائم لائنز کو حتمی شکل دینے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فائیو جی کا رول آؤٹ اہم شعبوں جیسے صنعت، صحت، تعلیم اور زراعت میں پیداواری صلاحیت، جدت اور نئی ڈیجیٹل خدمات کو فروغ دینے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
تمام عمل آئندہ 4 سے 6 ماہ کے اندر حتمی شکل اختیار کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیلامی نہ صرف ملک میں تھری جی اور فار جی نیٹ ورکس کو مضبوط کرے گی بلکہ اگلے پانچ ماہ میں فائیو جی کے رول آؤٹ کو بھی ممکن بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت صرف 274 میگا ہرٹز ٹیلی کام اسپیکٹرم دستیاب ہے جبکہ بنگلہ دیش کے پاس 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیلامی سے براڈ بینڈ کی معیار بہتر ہوگی اور انٹرنیٹ سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مناسب اسپیکٹرم کی کمی کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ سروسز کی رفتار سست ہونے کی وجہ بھی نیٹ ورک میں کنجیشن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فائیو جی کے رول آؤٹ کے ہموار نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز، بشمول ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ مشاورت بہت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے افتتاح کیے جانے والے کنیکٹ 2030 منصوبے کے تحت اگلے پانچ سال میں صارفین کو کم از کم 100 ایم بی پی ایس کی انٹرنیٹ کنیکٹوٹی دستیاب ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments