ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی پیمنٹ: پاور ڈویژن اور کے الیکٹرک کے درمیان اختلافات برقرار
- دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے حق میں مختلف عدالتی حوالہ جات اور ریگولیٹری تشریحات کا حوالہ دیتے ہوئے شدید خط و کتابت میں مصروف
پاور ڈویژن اور کے الیکٹرک (کے ای) کے درمیان ٹیرف معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کے ای نے سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) کے اسٹے آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے اصل ٹیرف تعینات (اورجِنل ٹیرف ڈیٹرمنیشنز) کی بنیاد پر ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ ٹی ڈی ایس کی ادائیگیاں نیپرا کی نظرثانی شدہ ٹیرف تعینات کے مطابق کی جائیں گی۔
دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے حق میں مختلف عدالتی حوالہ جات اور ریگولیٹری تشریحات کا حوالہ دیتے ہوئے شدید خط و کتابت میں مصروف ہیں۔
اپنے تازہ ترین خط میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی نے بتایا کہ نیپرا کی نظرثانی شدہ فیصلوں کے بعد وفاقی حکومت کی ریویو موشن کے تناظر میں ٹی ڈی ایس کی ادائیگی کے طریقۂ کار سے متعلق پاور ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری عبدالمتین کا لکھا گیا خط کے الیکٹرک نے اپنے قانونی مشیر ڈاکٹر فروغ نسیم کو ارسال کردیا ہے جو سندھ ہائی کورٹ میں کمپنی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
مونس علوی کے مطابق کے-الیکٹرک کے وکیل کی یہ مدلل رائے ہے کہ مذکورہ خط کے مندرجات پاور ڈویژن سمیت دیگر فریقین کے لیے زیرِ التوا آئینی درخواستوں میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا سبب بن سکتے ہیں۔ چنانچہ، کے-الیکٹرک نے براہِ راست سیکرٹری پاور کو خط لکھا ہے تاکہ انہیں اس صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے جسے کمپنی نے ’حالات کی اصل حقیقت‘ قرار دیا ہے۔“
کے-الیکٹرک نے اپنے 11 نومبر 2025 اور یکم دسمبر 2025 کے سابقہ خطوط کے مندرجات کو دہراتے ہوئے سیکرٹری پاور کی توجہ تین آئینی درخواستوں (CPs) اور سندھ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کی جانب مبذول کروائی ہے۔ کے-الیکٹرک کا موقف ہے کہ یہ قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ عبوری احکامات کی تشریح حکمِ امتناع کی درخواست کے تناظر میں کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں کمپنی نے ’فخر العارفین بنام وفاقِ پاکستان (2015 CLC 318)‘ کے عدالتی فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے۔
کے الیکٹرک کے مطابق حکمِ امتناع کی درخواستوں کا تناظر اگر 4 نومبر 2025 کے عبوری (ایڈ اِنٹرم) احکامات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ نظرثانی شدہ ٹیرف تعینات پر عمل درآمد کے لیے نہ تو فریقین کی جانب سے اور نہ ہی کسی ایسے ادارے کی جانب سے، جو ان کارروائیوں کا فریق نہیں، بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی اقدام کیا جا سکتا ہے۔
مونس علوی نے اپنے خط میں کہا کہ کے ای کے عارضی کلیمز جو اصل ٹیرف تعینات پر مبنی ہیں پر کارروائی نہ کر کے وزارتِ توانائی درحقیقت نظرثانی شدہ ٹیرف تعینات نافذ کر رہی ہے جس کی اسے قانونی طور پر اجازت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسٹر کلیکشن ایگریمنٹ (ایم سی اے) کے تحت بطور ایجنٹ بینک کام کرنے والا حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) بھی عبوری (ایڈ اِنٹرم) عدالتی احکامات کا پابند ہے اور نظرثانی شدہ ٹیرف تعینات کی بنیاد پر ادائیگیاں پراسیس نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا وہ بالواسطہ طور پر بھی نہیں کیا جا سکتا۔
کے-الیکٹرک نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک فاضل ڈویژن بینچ کے فیصلے ’سیف الرحمن بنام محمد ایوب (1998 CLC 1872)‘ کا حوالہ بھی دیا، جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ جب تک کسی عبوری ریلیف کی درخواست نیک نیتی کے ساتھ زیرِ التوا ہو، تب تک قانونی کارروائی کا کوئی بھی فریق ایسے طریقے سے عمل نہیں کر سکتا جو اس درخواست کے قانونی فیصلے کو پہلے سے ہی غیر مؤثر بنا دے، کیونکہ ایسا طرزِ عمل توہینِ عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
کے الیکٹرک نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ وزارتِ توانائی کا مؤقف ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی معاہدے (ٹی ڈی ایس ایگریمنٹ) کی شق 2.1 کی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق اگر کسی عدالت کی جانب سے حکمِ امتناع جاری کیا جائے تو عارضی ٹی ڈی ایس کلیمز دائر کرنے کے لیے سابقہ ٹیرف کو ہی بنیاد بنایا جائے گا۔
کے الیکٹرک نے ٹی ڈی ایس ایگریمنٹ کی شق 2.1 کو دہرایا، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ٹیرف تعینات یا سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کو عدالت میں چیلنج کیا جائے اور حکمِ امتناع جاری کیے جائیں تو کے ای اپنے عارضی کلیمز اسی ٹیرف تعینات یا ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر دائر کرے گا جو زیرِ چیلنج تعینات یا ایڈجسٹمنٹ سے پہلے کی گئی ہو۔
کے الیکٹرک نے موقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے 4 نومبر 2025 کے احکامات حکمِ امتناع کے زمرے میں آتے ہیں اور اس طرح ٹی ڈی ایس ایگریمنٹ کی شق 2.1 کی تمام دفعات ان پر مکمل طور پر لاگو ہوتی ہیں۔
کے الیکٹرک نے مزید دلیل دی کہ ٹی ڈی ایس ایگریمنٹ کی شق 2.6 کے تحت ٹی ڈی ایس بیلنس رپورٹ صرف کے ای کی جانب سے تیار کی جاسکتی ہے اور وزارتِ توانائی یکطرفہ طور پر اس رپورٹ کو تیار، نظرثانی یا ترمیم نہیں کر سکتی۔ کے ای کے مطابق وزارت کی جانب سے کی گئی کوئی بھی نظرثانی موجودہ عدالتی حکمِ امتناع کے تحت ٹیرف پر مبنی ہے جس کے نتیجے میں ایسی نظرثانی شدہ بیلنس رپورٹس کالعدم اور قانونی طور پر نافذ نہیں کی جاسکتیں۔
مونس علوی نے کہا کہ مذکورہ حقائق کے پیشِ نظر، کے ای کی جانب سے تیار اور دستخط شدہ ٹی ڈی ایس بیلنس رپورٹس وزارتِ توانائی کی طرف سے دستخط شدہ اور تسلیم شدہ سمجھی جائیں گی۔
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ 8 دسمبر 2025 کے ڈپٹی سیکریٹری کے خط میں ظاہر کیا گیا مؤقف 4 نومبر 2025 کے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات سیف الرحمان کے مقدمے میں قائم اصولوں، اور ٹی ڈی ایس ایگریمنٹ کی شق 2.1 اور 2.6 کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
مونس علوی نے ایک بار پھر سیکرٹری پاور سے درخواست کی کہ کے-الیکٹرک کے عارضی ٹی ڈی ایس دعووں پر اصل ٹیرف کے تعین کی بنیاد پر کارروائی کر کے انہیں جاری کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عدم تعمیل (حکم نہ ماننے) کی صورت میں کے-الیکٹرک اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
























Comments
Comments are closed.