BR100 Increased By (0.29%)
BR30 Increased By (0.37%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.76 (1.34%)
BIPL 26.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 33.95 Increased By ▲ 0.27 (0.8%)
CNERGY 10.63 Increased By ▲ 0.82 (8.36%)
DFML 18.15 Decreased By ▼ -0.37 (-2%)
DGKC 209.50 Increased By ▲ 1.63 (0.78%)
FABL 99.50 Increased By ▲ 0.60 (0.61%)
FCCL 53.75 Increased By ▲ 0.23 (0.43%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.18 (-1.08%)
GGL 23.84 Increased By ▲ 0.27 (1.15%)
HBL 302.16 Decreased By ▼ -2.23 (-0.73%)
HUBC 219.25 Increased By ▲ 1.14 (0.52%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.14 (-1.31%)
KEL 7.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.68%)
LOTCHEM 29.87 Increased By ▲ 0.76 (2.61%)
MLCF 96.30 Increased By ▲ 0.80 (0.84%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 0.05 (0.02%)
PAEL 41.90 Increased By ▲ 0.07 (0.17%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
PIOC 297.01 Increased By ▲ 17.00 (6.07%)
PPL 220.44 Increased By ▲ 0.70 (0.32%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.26 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
TELE 8.89 Increased By ▲ 0.13 (1.48%)
TPLP 12.56 Increased By ▲ 0.46 (3.8%)
TRG 60.26 Increased By ▲ 0.23 (0.38%)
UNITY 10.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.3%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

آسٹریا کی پارلیمنٹ نے اسکولوں میں حجاب پر پابندی کی منظوری دیدی

  • نئے قانون سے تقریباً 12 ہزار طالبات متاثر ہوں گی، حکومت ، مسلسل خلاف ورزی پر جرمانے کا انتباہ
شائع اپ ڈیٹ

آسٹریا کی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے اس قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 14 سال سے کم عمر طالبات کے لیے اسکولوں میں سر پر اسکارف پہننا ممنوع ہوگا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین نے اس اقدام کو تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ معاشرتی تقسیم کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

آسٹریا کی قدامت پسند حکومت جو ملک میں بڑھتے ہوئے مہاجر مخالف جذبات کے دباؤ میں ہے نے یہ پابندی رواں سال تجویز کی تھی۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد لڑکیوں کو جبری پابندیوں سے بچانا ہے۔

2019 میں آسٹرییا نے ابتدائی اسکولوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی عائد کی تھی لیکن آئینی عدالت نے اسے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس بار پیش کیا گیا قانون آئینی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس سے ایک مخصوص مذہب اسلام کو نشانہ بنانے کا تاثر مل سکتا ہے اور یہ بچوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔

نیا قانون 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کو ایسے حجاب پہننے سے روکتا ہے جو اسلامی روایات کے مطابق سر ڈھانپتے ہوں۔ جمعرات کی بحث کے دوران صرف حزبِ اختلاف کی گرین پارٹی نے اس پابندی کی مخالفت کی۔

ووٹنگ سے قبل لبرل نیوس (این ای او ایس) کے قانون ساز یانِک شیٹی نے دعویٰ کیا کہ اسکارف محض لباس نہیں بلکہ لڑکیوں کو جنسی نوعیت سے منسوب کرتا ہے۔

انٹیگریشن وزیر کلاؤڈیا پلاکوم نے کہا کہ جب ایک لڑکی سے کہا جاتا ہے کہ اسے مردوں کی نظروں سے بچنے کے لیے اپنے جسم کو چھپانا ہوگا تو یہ مذہبی رسم نہیں بلکہ جبر ہے۔

پلاکوم کے مطابق یہ پابندی حجاب اور برقع سمیت تمام اقسام کے اسلامی پردے پر لاگو ہوگی اور ستمبر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے مکمل طور پر نافذ ہو جائے گی۔ فروری سے آگاہی کا ابتدائی مرحلہ شروع ہوگا جس میں اساتذہ، والدین اور طلبہ کو قوانین سے آگاہ کیا جائے گا اور خلاف ورزی پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا۔

بار بار خلاف ورزی کی صورت میں والدین پر 150 سے 800 یورو (175 سے 930 ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق تقریباً 12 ہزار طالبات اس پابندی سے متاثر ہوں گی۔

بدنامی کا خطرہ

حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عرصے سے یہ مؤقف رکھتی ہیں کہ اسکارف پر پابندی دراصل عورت کو یہ بتانے کے مترادف ہے کہ اسے کیا پہننا چاہیے، بجائے اس کے کہ اسے آزادانہ فیصلہ کرنے دیا جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریا نے اس قانون کو مسلمان لڑکیوں کے خلاف کھلا امتیاز اور اسلام مخالف تعصب کے اظہار کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات مسلمانوں کے بارے میں پہلے سے موجود تعصبات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ملک کی مسلم برادری کی نمائندہ تنظیم آئی جی جی او ای نے بھی قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سماجی ہم آہنگی کو خطرہ ہے اور بچوں کو بااختیار بنانے کے بجائے بدنام اور الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔

خواتین کے حقوق کی تنظیم امازون کی مینیجنگ ڈائریکٹر اینجلیکا ایٹسنگر نے کہا کہ اسکارف پر پابندی لڑکیوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ان کے جسم کے بارے میں فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں ہیں۔

دوسری جانب مہاجر مخالف نظریات رکھنے والی دائیں بازو کی جماعت ایف پی او نے کہا کہ یہ پابندی ناکافی ہے اور مطالبہ کیا کہ اسے تمام طلبہ، اساتذہ اور اسکول عملے تک توسیع دی جائے۔

فرانس میں بھی 2004 سے اسکولوں میں ہیڈ اسکارف، پگڑی اور یہودی ٹوپی سمیت مذہبی شناخت ظاہر کرنے والے تمام نشانات پر پابندی عائد ہے، جو ملک کے سیکولر قوانین کے تحت ریاستی اداروں میں غیر جانب داری کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کی گئی تھی۔

Comments

Comments are closed.