BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-1.17%)
KSE100 Decreased By (-0.46%)
KSE30 Decreased By (-0.42%)
BAFL 56.84 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
BIPL 24.93 Decreased By ▼ -0.03 (-0.12%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 93.75 Decreased By ▼ -0.39 (-0.41%)
FCCL 52.10 Decreased By ▼ -0.69 (-1.31%)
FFL 14.51 Decreased By ▼ -0.21 (-1.43%)
GGL 19.09 Decreased By ▼ -0.47 (-2.4%)
HBL 306.47 Increased By ▲ 0.37 (0.12%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.45 Decreased By ▼ -1.71 (-1.84%)
OGDC 314.46 Decreased By ▼ -2.27 (-0.72%)
PAEL 35.20 Decreased By ▼ -0.43 (-1.21%)
PIBTL 14.77 Increased By ▲ 0.09 (0.61%)
PIOC 240.97 Decreased By ▼ -2.24 (-0.92%)
PPL 222.50 Decreased By ▼ -4.41 (-1.94%)
PRL 91.25 Decreased By ▼ -1.77 (-1.9%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.23 Decreased By ▼ -0.58 (-2.44%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.26 Decreased By ▼ -0.30 (-0.53%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

روسی صدر کا 4 اور 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ ، مودی سے ملاقات کریں گے، کریملن

  • پوتن آخری بار دسمبر 2021 میں بھارت گئے تھے اور چند ماہ بعد فروری 2022 میں یوکرین میں فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

روس کے صدر ولادیمیر پوتن وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر 4 اور 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ کریں گے۔ دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر بات چیت کرنا ہے۔

کریملن اور بھارت کے دفترِ خارجہ نے جمعے کو بتایا کہ پوتن دورے کے دوران مودی سے ملاقات کریں گے اور بھارتی صدر دروپدی مرمو کے ساتھ الگ اجلاس بھی کریں گے۔ اس موقع پر متعدد بین الحکومتی اور تجارتی دستاویزات پر دستخط متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ پوتن آخری بار دسمبر 2021 میں بھارت آئے تھے، چند ماہ قبل ہی انہوں نے فروری 2022 میں یوکرین میں فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔

کریملن نے بیان میں کہا کہ یہ دورہ روس بھارت تعلقات کے وسیع ایجنڈے پر جامع بات چیت کا اہم موقع فراہم کرے گا، کیونکہ یہ تعلقات ایک خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

روس اور بھارت کے تعلقات سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار بھارت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ روس سے تیل کی خریداری بند کرے۔ بھارت روسی تیل کا ایک بڑا خریدار رہا ہے، مگر تجارتی اور ریفائنری ذرائع کے مطابق دسمبر میں بھارت کی روسی تیل کی درآمدات کم سے کم تین سال میں سب سے کم سطح تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ نومبر میں یہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر تھیں۔

ریفائنرز نے متبادل ذرائع کی طرف رجوع کیا ہے، تاکہ مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔


Comments

Comments are closed.