BR100 Increased By (0.71%)
BR30 Increased By (1.01%)
KSE100 Increased By (0.45%)
KSE30 Increased By (0.47%)
BAFL 58.59 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 25.58 Increased By ▲ 0.38 (1.51%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 195.58 Increased By ▲ 2.61 (1.35%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.66 Increased By ▲ 0.83 (1.57%)
FFL 18.15 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.10 (1.25%)
LOTCHEM 27.70 Decreased By ▼ -0.19 (-0.68%)
MLCF 87.40 Increased By ▲ 0.89 (1.03%)
OGDC 323.40 Increased By ▲ 3.44 (1.08%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 17.50 Increased By ▲ 0.83 (4.98%)
PIOC 268.97 Increased By ▲ 2.91 (1.09%)
PPL 229.58 Increased By ▲ 1.40 (0.61%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.79 Increased By ▲ 0.61 (0.62%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.48 (1.8%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.32 (3.86%)
TPLP 8.58 Increased By ▲ 0.36 (4.38%)
TRG 70.35 Increased By ▲ 0.64 (0.92%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
رائے

تنخواہ دار طبقہ: جابرانہ ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے (پہلا حصہ)

  • ٹیکس نظام، جو ماضی میں ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل دینے اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا تھا، اب خود عدم مساوات کو دوام دے رہا ہے
شائع November 7, 2025 اپ ڈیٹ November 10, 2025

پاکستان کی معیشت سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں مالیاتی مسائل، صنعتی پیداوار میں کمی اور محدود ٹیکس نیٹ جیسے عوامل شامل ہیں جو عوامی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مہنگائی نے قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے، بلند شرحِ سود اور بڑھتی ہوئی توانائی لاگت نے سرمایہ کاری کو محدود کر دیا ہے، جبکہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

ٹیکس نظام، جو ماضی میں ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل دینے اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا تھا، اب خود عدم مساوات کو دوام دے رہا ہے اور انہی شہریوں کو مایوس کر رہا ہے جن کی خدمت کے لیے یہ وجود میں آیا تھا۔ ٹیکسیشن اب شہری ذمہ داری کی علامت کم اور ایک ضبطی نوعیت کے نظام کی عکاس زیادہ بن چکی ہے جو عوام سے زیادہ مانگتا ہے مگر بدلے میں بہت کم دیتا ہے۔

پاکستان کے ٹیکس ڈھانچے پر طویل عرصے سے براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں میں عدم توازن اور بلند شرحوں کے باعث تنقید کی جاتی رہی ہے۔ قومی محصولات کا بڑا حصہ اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں، مثلاً سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے حاصل کیا جاتا ہے جو آمدنی کی سطح سے قطع نظر تمام شہریوں پر بوجھ ڈالتے ہیں۔ تاہم، ٹیکس دینے والے طبقات میں سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر پڑتا ہے۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مالی سال 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق، تنخواہ دار طبقے نے ذرائع آمدن پر ماخذ سے 605.953 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 54.7 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، یہ معیشت کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا طبقہ ہے۔ اپنی مجموعی آمدنی اور مراعات کی بلند قیمتوں پر ٹیکس کی کٹوتی کے باعث ان کی تنخواہوں کا بڑا حصہ براہِ راست ریاستی خزانے میں چلا جاتا ہے، جس کے بعد ان کے لیے گزر بسر مشکل ہو جاتی ہے، کیونکہ انہیں اپنی خالص آمدنی پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ دوسری جانب معیشت کے بڑے شعبے، خصوصاً ریٹیل، ہول سیل اور رئیل اسٹیٹ، یا تو کم ٹیکسوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، یا ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، یا پھر ٹیکسوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں۔

’ریونیو ڈویژن ایئر بُک 2025‘ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں تنخواہوں سے ماخذ پر جمع ہونے والا انکم ٹیکس 606 ارب روپے رہا، جو برآمد کنندگان سے ماخذ پر وصول کیے گئے ٹیکس (122 ارب روپے)، ریٹیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس (بالترتیب 37 ارب اور 25 ارب روپے)، بجلی کے بلوں پر ٹیکس (144 ارب روپے)، جائیداد سے حاصل آمدنی (49 ارب روپے) اور غیر منقولہ جائیداد کے خریداروں و فروخت کنندگان سے وصول کردہ ٹیکس (بالترتیب 118 ارب روپے)، ان سب کے مجموعے کے برابر ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ حکومت کس قدر غیر منصفانہ طور پر ملازمین پر انحصار کر رہی ہے۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملک میں فعال ٹیکس دہندگان کی کل تعداد تقریباً 56 لاکھ ہے، جن میں اکثریت تنخواہ دار طبقے کی ہے۔ یہ عدم توازن اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب اس کا موازنہ ملک کی 7 کروڑ 50 لاکھ سے زائد مزدور آبادی سے کیا جائے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف 10 فیصد سے بھی کم پاکستانی اپنی آمدنی کے گوشوارے جمع کراتے ہیں، اور ان میں سے بھی ایک قلیل حصہ قابلِ ذکر انکم ٹیکس ادا کرتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹیکس وصولی کے کمزور نفاذ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ باضابطہ روزگار کے خلاف ساختیاتی تعصب کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

یہ مسئلہ محض اعداد و شمار تک محدود نہیں، کیونکہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ اس سطح تک پہنچ چکا ہے جسے ماہرینِ معیشت اور ٹیکس ماہرین ’ضبطی‘ یا ’جابرانہ‘ سطح قرار دیتے ہیں۔ اب یہ طبقہ اپنی خالص آمدنی سے گزر بسر کرنے کے قابل نہیں رہا۔ درمیانے طبقے کے لیے قابلِ اطلاق مجموعی شرحِ ٹیکس، جب پروویڈنٹ فنڈ اور لازمی پنشن کٹوتیوں جیسے دیگر واجبات کے ساتھ جوڑی جائے، 35 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

ایسا بوجھ صرف اس صورت میں جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے جب ریاست تمام شہریوں کو معیاری تعلیم، قابلِ رسائی صحت کی سہولیات، قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اور مضبوط سماجی تحفظ جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرے۔ مگر پاکستان میں یہ خدمات یا تو موجود نہیں یا انتہائی کمزور مالی معاونت کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں۔ نتیجتاً تنخواہ دار طبقہ دوہرے عذاب سے گزرتا ہے، بھاری ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اُسے اپنی کم آمدنی سے ہی نجی اسکولوں کی فیس، مہنگے علاج اور ذاتی تحفظ کے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

ایف بی آر کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس وصولی 11.7 کھرب روپے رہی، جس میں سے انکم ٹیکس کا حصہ 5.76 کھرب روپے تھا۔ اس انکم ٹیکس میں سے محض 267 ارب روپے — جو کل انکم ٹیکس وصولی کا صرف 4.6 فیصد بنتا ہے، ’ڈیمانڈ پر‘ جمع کیا گیا (171 ارب روپے موجودہ واجبات سے اور 95 ارب روپے بقایاجات سے حاصل ہوئے)۔ پوری فیلڈ فارمیشن کی کتنی قابل مذمت کارکردگی ہے!

تنخواہ دار طبقہ، جو مجموعی ٹیکس دہندگان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، ٹیکسوں کے غیر متناسب بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اسے بلند شرح کے انکم ٹیکس کا سامنا ہے اور خالص آمدنی سے وہ اشیائے صرف اور خدمات خریدتا ہے جن پر وفاق کی جانب سے 18 فیصد سیلز ٹیکس اور صوبوں کی جانب سے خدمات پر 16 فیصد ٹیکس عائد ہے۔

حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں ناکامی، یعنی امیر و بااثر طبقے کو ٹیکس کے دائرے میں نہ لانا اور پانچ کھرب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹیں ختم نہ کرنا، اس نظام میں پہلے سے شامل طبقات، خصوصاً تنخواہ دار ملازمین پر مزید دباؤ ڈالتی ہے۔ یہ پالیسی اگرچہ قلیل مدتی مالی استحکام کا تاثر دے سکتی ہے، مگر درحقیقت یہ عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور سماجی و معاشی انصاف کے وسیع تر ہدف کو نقصان پہنچاتی ہے۔

ٹیکس سلیبز کی ساخت خود اس عدم مساوات کی عکاس ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کمانے والے افراد کے لیے ابتدائی شرحِ ٹیکس بظاہر معتدل دکھائی دیتی ہے، لیکن جب مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کو مدنظر رکھا جائے تو اس کا حقیقی اثر کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

20 لاکھ روپے سالانہ سے زائد آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں اچانک اضافہ اس نظام کو غیر منصفانہ بنا دیتا ہے، جو محنت اور پیشہ ورانہ ترقی کو سزا دینے کے مترادف ہے۔ حقیقی ریلیف یا مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کے فقدان کے باعث معمولی تنخواہ میں اضافے سے بھی کارکنان بلند ٹیکس سلیب میں چلے جاتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کی حقیقی آمدنی میں کوئی بہتری آئے، یوں ٹیکسوں میں یہ پوشیدہ اضافہ ان کی محنت پر عملی طور پر ایک سزا بن جاتا ہے۔

(مزید پیر کو)

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.