وزارت توانائی (پاور ڈویژن) نے ملک بھر کی بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکوز) میں اسمارٹ میٹرز کی بڑے پیمانے پر تنصیب کا آغاز کردیا۔ یہ اقدام 2025–26 کو “یئر آف کسٹمر سروس امپروومنٹ” کے طور پر منانے کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد صارفین کی خدمت، آپریشنل کارکردگی اور پاکستان کے بجلی کے شعبے میں شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ میٹرنگ صارف اور فراہم کنندہ کے درمیان اہم رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ وزارت کے 2025–26 کو ایئر آف کسٹمر سروس امپروومنٹ قرار دینے کے فیصلے کے مطابق ڈسکوز نے اپنے انفرااسٹرکچر کی جدید کاری کے لیے جامع ڈیجیٹلائزیشن مہم کا آغاز کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدام صارفین کو بروقت معلومات، شفافیت اور بہتر تجربہ فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اسمارٹ میٹرز کی قیمت اس تبدیلی میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ ملک میں تقریباً 38 ملین بجلی صارفین میں سے 80 فیصد سنگل فیز صارفین ہیں۔ اب تک ایک سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت تقریباً 20,000 روپے تھی، جو بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں کافی زیادہ تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسٹریٹیجک اقدامات، شفاف خریداری اور مسلسل نگرانی کے ذریعے اب اس کی قیمت تقریباً 15,000 روپے تک کم کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس اقدام سے صرف سالانہ اندازاً 25 ارب روپے کی بچت ہوگی، جس میں ہر سال تقریباً 5 ملین میٹرز کی تبدیلی شامل ہے۔
کم قیمت میٹرز صارفین کے لیے مالی بوجھ کو بھی کم کریں گے اور جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ قابل رسائی اور سستی بنائیں گے۔ مستقبل میں بین الاقوامی مقابلہ جاتی بولی کے عمل کے ذریعے قیمتیں مزید کم ہونے کی توقع ہے۔






















Comments
Comments are closed.