روسی پابندیوں اور اوپیک پلس کی ممکنہ پیداوار میں اضافے کے خدشات، خام تیل کی قیمتیں مزید گرگئیں
خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو بھی کمی ریکارڈ کی گئی، یہ مسلسل تیسرا روز ہے جب تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ روس پر عائد پابندیوں کے مؤثر ہونے پر شکوک و شبہات اور اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں ممکنہ اضافے کے امکانات نے منڈی پر دباؤ ڈال دیا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 7 سینٹ یا 0.11 فیصد کی کمی سے 4.33 ڈالر فی بیرل پر آگیا جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز بھی 7 سینٹ یا 0.12 فیصد گر کر 60.08 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
ذرائع نے امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل، پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق 24 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر میں 40 لاکھ 20 ہزار بیرل کی کمی ہوئی۔
اسی دوران پیٹرول کے ذخائر میں 63 لاکھ 50 ہزار بیرل اور ڈیزل (ڈسٹلیٹ) کے ذخائر میں 43 لاکھ 60 ہزار بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق توقع سے زیادہ کمی کے باعث گزشتہ سیشن میں تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آیا جس نے بدھ کی صبح مارکیٹ کو ابتدائی سہارا فراہم کیا۔
فِلِپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا نے کہا کہ امریکا میں ذخائر میں غیر متوقع کمی نے آج صبح قیمتوں کو سہارا دیا، تاہم پابندیوں کے خطرات اور اوپیک پلس کے رویے کے درمیان توازن ہی منڈیوں کو متحرک کررہی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ لامحدود ہے، کیونکہ اگرچہ پابندیوں اور سپلائی سے متعلق کہانی مضبوط ہوئی ہے لیکن طلب کے پہلو میں اب بھی کمزوری موجود ہے اور اضافی پیداواری گنجائش برقرار ہے۔
گزشتہ ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں جون کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں پہلی بار روس پر یوکرین سے متعلق پابندیاں عائد کیں، جن کا ہدف بڑی تیل کمپنیاں لوک آئل اور روس نیفٹ تھیں۔
تاہم، مارکیٹ میں یہ خدشات برقرار رہے کہ پابندیاں تیل کی زائد سپلائی کے اثرات کو زائل نہیں کر سکیں گی، جبکہ اوپیک پلس کی جانب سے ممکنہ پیداوار میں اضافے کی باتوں نے بھی دباؤ بڑھا دیا۔ نتیجتاً، دونوں بینچ مارک قیمتوں میں گزشتہ سیشن کے دوران 1.9 فیصد یا ایک ڈالر سے زائد کمی دیکھی گئی۔
منگل کو کریملن نے کہا کہ روس اعلیٰ معیار کی توانائی مناسب قیمت پر فراہم کر رہا ہے اور امریکی پابندیوں کے بعد اس کے شراکت دار خود فیصلہ کریں گے کہ وہ روسی توانائی خریدنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق، بھارتی ریفائنریوں کی ایک بڑی تعداد نے روسی تیل کے نئے آرڈرز اس وقت تک روک دیے ہیں جب تک کہ حکومت اور سپلائرز کی جانب سے پابندیوں سے متعلق وضاحت نہیں مل جاتی، جبکہ کچھ ریفائنریز متبادل کے طور پر اسپاٹ مارکیٹ سے تیل خریدنے کی طرف مائل ہیں۔
تاہم، سرکاری ادارے انڈین آئل نے منگل کو واضح کیا کہ جب تک روسی تیل کی خریداری بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں کرتی، وہ اس کی خرید جاری رکھے گا۔

























Comments
Comments are closed.