پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام ) نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے متعارف کرائی گئی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں کے بے جا استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان اسکیموں کے ذریعے اب تقریباً 200 ارب روپے کی کالی معیشت پروان چڑھ رہی ہے جو پاکستان کی آٹو پارٹس صنعت کے وجود کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
یہ اسکیمیں گفٹ ، ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور بیگیج کی بنیاد پر متعارف کرائی گئی تھیں ، تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی ذاتی گاڑیاں درآمد کر سکیں، تاہم اب ان کا استعمال تجارتی مقاصد، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے لیے کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گاڑیاں جعلی یا خریدے گئے پاسپورٹس پر درآمد کی جاتی ہیں، ادائیگیاں ہنڈی یا حوالہ کے ذریعے کی جاتی ہیں اور یہ گاڑیاں غیر رجسٹرڈ ڈیلرز کے ذریعے فروخت کی جاتی ہیں جن کا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کو کوئی حساب نہیں دیا جاتا ، برخلاف مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیوں کے، جن کے لیے مکمل ٹیکس دستاویزات لازمی ہیں۔
پاپام کے ترجمان کے مطابق یہ محض ایک خلا نہیں بلکہ متوازی معیشت ہے۔ ‘
ان کا کہنا تھا کہ ہر درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑی تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے مقامی پارٹس کی طلب ختم کر دیتی ہے، جس سے وینڈرز کو 60 ارب روپے کی سالانہ فروخت کا نقصان اور 40 ہزار ہنرمند ملازمتوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.