پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندشوں کے باعث دونوں ممالک میں ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جب کہ پاکستان میں ٹماٹر کی قیمت رواں ماہ دونوں ہمسایہ جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان جھڑپوں کے آغاز کے بعد پانچ گنا تک بڑھ گئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہیں 11 اکتوبر سے بند ہیں، جب 2,600 کلومیٹر (1,600 میل) طویل متنازع سرحد پر زمینی جھڑپوں اور پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں درجنوں افراد مارے گئے، یہ 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اب تک کی بدترین جھڑپیں قرار دی جا رہی ہیں۔
پاک افغان چیمبر آف کامرس کے سربراہ خان جان الکوزئی نے جمعرات کے روز رائٹرز کو بتایا کہ جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تمام تجارت اور ٹرانزٹ مکمل طور پر معطل ہیں۔
الکوزئی نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں ممالک کو تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
تازہ پھل، سبزیاں، معدنیات، ادویات، گندم، چاول، چینی، گوشت اور دودھ کی مصنوعات، یہ سب دوطرفہ تجارت کے سالانہ 2.3 ارب ڈالر کے حجم کا بڑا حصہ ہیں۔
پاکستانی کھانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے ٹماٹروں کی قیمت 400 فیصد سے زائد اضافے کے بعد تقریباً 600 روپے فی کلو (2.13 ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔ افغانستان سے درآمد ہونے والے سیبوں کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
الکوزئی نے بتایا کہ ہم روزانہ سبزیوں کے تقریباً 500 کنٹینرز برآمد کرتے ہیں، جو اب سب کے سب خراب ہو چکے ہیں۔
شمال مغربی پاکستان میں مرکزی طورخم بارڈر پر تعینات ایک پاکستانی اہلکار کے مطابق تقریباً 5,000 مال بردار کنٹینرز سرحد کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں ٹماٹروں، سیب اور انگور کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔
پاکستان کی وزارتِ تجارت نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
سرحدی جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے جو سرحد پار سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں اور مبینہ طور پر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کام کرتے ہیں۔ طالبان حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
قطر اور ترکی کی میزبانی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جو تاحال برقرار ہے، تاہم سرحدی تجارت اب بھی معطل ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔






















Comments
Comments are closed.