پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے جمعرات کو کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی سے متعلق فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں ٹی ایل پی کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذہبی و سیاسی جماعت کے 3,600 مالی معاونین کی نشاندہی ملک کے اندر اور بیرونِ ملک کی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت کو دی جانے والی چندہ رقوم براہِ راست اس گروہ کے رہنماؤں کے گھروں تک پہنچتی تھیں۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر رہنما پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ٹی ایل پی کی سرگرمیوں سے دور رکھیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ٹی ایل پی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں اور مالی معاونین کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کسی بھی ذریعے سے اس جماعت کو فنڈنگ نہ ہو۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، پولیس کی گاڑیاں چھین لی گئیں، شہری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔





















Comments
Comments are closed.