فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ایک دفاعی معاہدے پر بات چیت جاری ہے جسے آئندہ ماہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وائٹ ہاؤس کے متوقع دورے کے دوران حتمی شکل دیے جانے کی امید ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ جب ولی عہد آئیں گے تو معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم تفصیلات ابھی حتمی نہیں ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ معاہدے کی تفصیلات ابھی طے نہیں پائیں۔
زیرِ غور معاہدہ حال ہی میں طے پانے والے امریکہ قطر دفاعی معاہدے سے مشابہ ہے جس کے تحت قطر پر کسی بھی مسلح حملے کو امریکہ کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔
امریکہ اور قطر کے درمیان یہ معاہدہ اُس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ماہ اسرائیل نے دوحہ میں فضائی حملے کے ذریعے حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون ہماری علاقائی حکمتِ عملی کی مضبوط بنیاد ہے تاہم ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ، وائٹ ہاؤس اور سعودی حکومت نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
سعودی عرب طویل عرصے سے قطر معاہدے جیسی سیکیورٹی ضمانتوں کا خواہاں ہے، جو واشنگٹن کی جانب سے ریاض اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ گزشتہ ماہ، سعودی عرب نے جوہری صلاحیت کے حامل پاکستان کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔




















Comments
Comments are closed.