اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے اثرات زائل، 100 انڈیکس 1200 سے زائد پوائنٹس گرگیا
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو پرافٹ ٹیکنگ کے باعث ابتدائی تیزی کے اثرات زائل ہوگئے جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔
مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 1100 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے 166,864.89 پوائنٹس پر جاپہنچا۔ بعدازاں سرمایہ کاروں نے منافع خوری کو ترجیح دی جس سے 100 انڈیکس ایک موقع پر 100 انڈیکس 164,261.65 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بھی دیکھا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,241.67 پوائنٹس کی کمی سے 164,444.71 پوائنٹس پر بند ہوا۔
کارپوریٹ محاذ پر کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے ڈائریکٹر شان اے اشری نے ان رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حسن چشتی نے کمپنی میں اپنے حصص کی فروخت کے لیے سعودی سرمایہ کار کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، انہوں نے ان دعوؤں کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا۔
یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا کیونکہ گزشتہ سیشن میں زبردست تیزی کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی، اگرچہ ٹریڈنگ کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایک روز قبل بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 210.36 پوائنٹس یا 0.13 فیصد اضافے سے 165,686.38 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو بیشتر ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ امریکی چپ سیکٹر میں راتوں رات ہونے والی تیزی کے اثرات سے سیمی کنڈکٹر شعبہ مضبوط رہا۔
وال اسٹریٹ پر آمدنی کے سیزن کے مضبوط آغاز نے بھی مارکیٹ کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں مدد دی۔ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی سے سونا ایک نئی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جاپانی کرنسی ین جیسے محفوظ اثاثوں کی کشش میں اضافہ کیا جبکہ امریکی ڈالر دباؤ میں رہا۔ جاپان کا نکی انڈیکس 0.8 فیصد بڑھ گیاجس میں چِپ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص نے نمایاں کردار ادا کیا۔
تائیوان کے حصص میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا، جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.8 فیصد بڑھا جبکہ آسٹریلیا کا ایکویٹی بینچ مارک 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
تجارتی کشیدگی کے دباؤ کے باوجود ابتدائی اتار چڑھاؤ کے بعد ہانگ کانگ اور چین کی سرزمین کی مارکیٹیں بھی مثبت رہیں۔
امریکی اسٹاک فیوچرز مجموعی طور پر مستحکم رہے جبکہ راتوں رات ایس اینڈ پی 500 میں 0.4 فیصد اور ٹیکنالوجی سے بھرپور نیسڈیک میں 0.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری دکھائی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے اضافے کے ساتھ 281.11 روپے پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم بڑھ کر 3,078 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو پچھلے سیشن میں 1,528 ملین تھا۔ تاہم حصص کی مالیت کم ہو کر 50.61 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ اجلاس میں 68.60 ارب روپے تھی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ 1,022.41 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 953.71 ملین شیئرز اور ٹیلی کارڈ لمیٹڈ 99.87 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
جمعرات کو مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 174 کے شیئرز کی قدر میں اضافہ، 269 میں کمی اور 41 میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

























Comments
Comments are closed.