نیپرا نے کمپیٹیٹیو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ کے نفاذ کی منظوری دیدی
- مارکیٹ آپریٹر نے نیپرا کو بتایا کہ سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کے لیے تمام پیشگی شرائط پوری کر لی ہے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سی ٹی بی سی ایم (کمپیٹیٹیو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ) کے فائنل ٹیسٹ رن (ایف ٹی آر) اور مارکیٹ کمرشل کوڈ (ایم سی سی) سے متعلق فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں بجلی کی تجارت کے منظم مارکیٹ ماڈل کو فعال بنانا ہے۔
فیصلے کے مطابق، مارکیٹ آپریٹر (ایم او) نے نیپرا کو بتایا کہ سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کے لیے تمام پیشگی شرائط پوری کر لی گئی ہیں۔ مارکیٹ مینجمنٹ سسٹم (ایم ایم ایس) جون 2022 سے مکمل طور پر فعال ہے اور اس کے ذریعے ماہانہ بنیادوں پر سیٹلمنٹس بغیر کسی بڑی تکنیکی رکاوٹ کے کی جا رہی ہیں۔ مارکیٹ آپریٹر نے ایم ایم ایس کے بینچ مارکنگ پیرامیٹرز کے تعین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور یہ عمل 2024 کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
مارکیٹ آپریٹر نے مزید بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر میرٹ آرڈر کے نفاذ میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ تاہم، کے الیکٹرک اور نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کی درخواستیں زیرِالتوا ہیں۔ نیپرا نے ہدایت کی ہے کہ ان دونوں اداروں کو جلد از جلد اپنی رجسٹریشن مکمل کرنی چاہیے۔
اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بیشتر اہداف مکمل ہو چکے ہیں، سوائے دو نکات کے: پہلا، مارکیٹ شرکا اور سروس پرووائیڈرز کا حتمی اندراج، اور دوسرا، ایم ایم ایس کی بین الاقوامی معیار کے مطابق بینچ مارکنگ۔ نیپرا نے ڈسکوز، کے الیکٹرک اور این جی سی کو ڈیِمڈ مارکیٹ پارٹسپنٹس قرار دیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر مارکیٹ آپریٹر کے ساتھ اپنے معاہدے دستخط کریں۔
اتھارٹی نے مزید کہا کہ بجلی کے صنعتی خریداروں، ایسوسی ایشنز، چیمبرز اور پاور جنریٹرز کو سی ٹی بی سی ایم کے ڈیزائن اور اصولوں سے آگاہی حاصل نہیں ہے، جس سے مارکیٹ میں ان کی شمولیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے نیپرا نے ہدایت کی کہ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) ایک ماہ کے اندر آگاہی مہم شروع کرے، جس کے تحت ملک کے بڑے شہروں میں ورکشاپس، سیمینارز اور انٹریکٹیو سیشنز منعقد کیے جائیں۔
نیپرا نے شفافیت کو موثر مارکیٹ کا بنیادی جزو قرار دیتے ہوئے ہدایت دی کہ سی ایم او ڈی کے موقع پر آئی ایس ایم او اپنی ویب سائٹ پر ایف ٹی آر کے نتائج، سیٹلمنٹ اسٹیٹمنٹس اور گزشتہ دو برس کے مارجنل پرائسز شائع کرے۔
اتھارٹی نے فیصلہ دیا کہ سی ایم او ڈی کا نفاذ اس وقت ہوگا جب یا تو نیپرا گرڈ چارجز کا تعین کرے یا وفاقی حکومت اسٹرینڈڈ کاسٹ فریم ورک کے تحت اپنی پالیسی گائیڈ لائنز جاری کرے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مارکیٹ آپریٹر اور سسٹم آپریٹر کے آئی ٹی سسٹمز مکمل طور پر فعال اور محفوظ ہیں، جنہیں جدید سیکیورٹی پروٹوکولز کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ اگرچہ اسکاڈا سسٹم کی تنصیب میں تاخیر تشویش ناک ہے، تاہم اس کی عدم موجودگی مارکیٹ کے آغاز میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ نیپرا نے ہدایت کی کہ آئی ایس ایم او دسمبر 2025 تک اسکاڈا کے نفاذ سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔
اتھارٹی نے مزید کہا کہ بجلی کے تقسیم کار نیٹ ورکس پر دستیاب کواکسیڈنٹل سسٹم پیک ڈیٹا مارکیٹ سیٹلمنٹس کے لیے کافی ہے، اس لیے بی ایم سی (بیلنس مارکیٹ کوڈ) کو تاخیر کے بغیر نافذ کیا جائے۔ نیپرا نے مارکیٹ آپریٹر کو ہدایت کی کہ وہ وزارتِ توانائی کے ساتھ رابطہ کر کے الوکیشن فیکٹرز کے باضابطہ تعین کے لیے فوری اقدامات کرے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کے لیے تکنیکی و انتظامی بنیادیں مکمل طور پر تیار ہیں اور اس کے آغاز سے ملک میں بجلی کی منڈی ایک منظم، شفاف اور مسابقتی نظام کی طرف منتقل ہو گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.