پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بدھ کو بلوچستان کے اسپن بولدک علاقے میں افغان طالبان کے چار مربوط اور بزدلانہ حملے ناکام بنا دیے۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملے سرحدی گاؤں کے مختلف حصوں سے کیے گئے جن میں عام شہری آبادی کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان نے اپنی جانب سے پاک افغان دوستی گیٹ کو بھی تباہ کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور قبائلی سہولتوں کے حوالے سے ان کے منفی رویے کو واضح کرتا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جوابی کارروائی میں کم از کم 15 سے 20 افغان طالبان مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ صورتِ حال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک روز قبل پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔
ان جھڑپوں کی ابتدا افغان سرزمین سے کیے گئے بلا اشتعال حملے سے ہوئی، جس میں افغان طالبان کے جنگجوؤں کے ساتھ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ گروہوں نے بھی حصہ لیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اسپن بولدک کا حملہ کسی طور پر تنہا واقعہ نہیں ۔ ترجمان کے مطابق 14 اور 15 اکتوبر کو افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے جنگجوؤں نے خیبرپختونخوا کے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی، جسے مؤثر جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے ان دعووں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا جن میں کہا گیا کہ حملہ پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا یا پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ایسے پروپیگنڈا بیانات معمولی حقائق کی جانچ سے بھی غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔





















Comments
Comments are closed.