انڈونیشیا کے صدر پربوو سبیانٹو نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ سے ملاقات کر سکیں۔ یہ گفتگو اُس وقت ریکارڈ ہوئی جب دونوں رہنما مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ میں جنگ بندی پر منعقدہ امن کانفرنس کے موقع پر ایک دوسرے سے ملے، اور قریب موجود مائیکروفون اُن کی بات چیت ریکارڈ کرتا رہا۔
ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز میں دونوں رہنماؤں کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اُن کی گفتگو نشر ہو رہی ہے۔
ریکارڈ شدہ گفتگو میں پربوو ایک غیر محفوظ علاقے کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ سے کہتے ہیں: کیا میں ایرک سے ملاقات کر سکتا ہوں؟ جس پر ٹرمپ جواب دیتے ہیں: “میں ایرک سے کہوں گا کہ وہ آپ کو فون کرے، وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ پربوو بعد میں کہتے ہیں: ایرک یا ڈان جونیئر، دونوں ٹھیک ہیں۔
ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر دونوں ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو نائب صدر ہیں، جو رئیل اسٹیٹ، ہاسپیٹیلٹی اور بلاک چین منصوبوں میں سرگرم ہے۔
پربوو کی گفتگو میں ایک شخص ہیری کا بھی ذکر آیا، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ہیری تانوسو دیبیجو ہیں — جو انڈونیشیا کے معروف کاروباری اور ایم این سی گروپ کے چیئرمین ہیں۔ ہیری طویل عرصے سے ٹرمپ آرگنائزیشن کے کاروباری پارٹنر رہے ہیں۔
ایم این سی لینڈ، جو ایم این سی گروپ کی ذیلی کمپنی ہے، جکارتہ کے قریب ٹرمپ برانڈڈ ریزورٹ اور گولف کلب کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ تاہم، رواں سال فروری میں انڈونیشیا کی وزارت ماحولیات نے ماحولیاتی خدشات کے باعث اس منصوبے پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔
دونوں منصوبے، بشمول بالی میں بننے والا نیا ریزورٹ، تاخیر کا شکار ہیں۔ وائٹ ہاؤس، ٹرمپ آرگنائزیشن اور پربوو کے دفتر نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔























Comments
Comments are closed.