BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے فنانس وزراء اور سینٹرل بینک کے گورنرز کا ششماہی اجلاس پیر کو واشنگٹن میں شروع ہو رہا ہے جس کا پس منظر دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کی جانب سے نئے تجارتی خطرات ہیں۔

گزشتہ ہفتے چین نے اہم معدنیات کی برآمد پر نئی پابندیاں عائد کیں جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا، جنہوں نے کہا کہ جواب میں وہ بیجنگ پر 100 فیصد نئے ٹیرف عائد کر دیں گے۔

یہ خبر جمعہ کو امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بند ہونے کے فوراً بعد موصول ہوئی جس کے بعد شیئرز کی قیمتیں گرتی گئیں کیونکہ سرمایہ کار تجارت کے دوبارہ شدید ہونے کے امکان کو ہضم کر رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت جتنا خوف تھا اس سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، لیکن مطلوبہ معیار سے کمزور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف اب توقع کرتا ہے کہ عالمی معیشت اس سال اور آئندہ سال صرف معمولی حد تک سست ہوگی جس کی حمایت امریکہ اور کچھ دیگر ترقی یافتہ معیشتوں، ابھرتے ہوئے ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں بہتر از توقع حالات کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں سالانہ اجلاس آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوں گے جو وائٹ ہاؤس سے محض چند قدم کے فاصلے پر واقع ہیں۔

معیشت اور روزگار مرکزِ توجہ

ورلڈ بینک کی توجہ غالباً روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز رہے گی جس میں صدر اجے بانگا کئی پروگراموں میں حصہ لیں گے جو ان ممالک میں لیبر مارکیٹ میں شمولیت بڑھانے کے لیے منعقد کیے جارہے ہیں جہاں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف اپنی روایتی 3 رپورٹس عالمی معیشت کی صحت، مالیاتی پالیسی اور عالمی مالی استحکام پر بات کرنے کیلئے پریس کانفرنسز کا انعقاد کرے گا۔

سالانہ اجلاسوں میں یوکرین پر بھی ایک اور راؤنڈ ٹیبل ہوگا، ایک ایسا ملک جو روسی حملے کے آغاز کے تین سال بعد بھی تقریباً روزانہ ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق یہ موقع ہوگا کہ یوکرین کی جاری معاونت اور اس کی تعمیر نو کے لیے ضروری اقدامات پر بات کی جائے۔

اسی دوران G7 ممالک کے مالیاتی وزراءکے اجلاس اور G20 گروپ کے اجلاس بھی ہوں گے جس میں امریکہ اور چین سمیت دنیا کی بڑی معیشتیں شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس اس بات پر قائم ہے کہ ٹیرفز کا طویل المدتی اثر امریکہ کے لیے مثبت ہوگا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اب تک ان کے اقتصادی اثرات نسبتاً کمزور رہے ہیں۔

Comments

Comments are closed.