آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے فنانس وزراء اور سینٹرل بینک کے گورنرز کا ششماہی اجلاس پیر کو واشنگٹن میں شروع ہو رہا ہے جس کا پس منظر دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کی جانب سے نئے تجارتی خطرات ہیں۔
گزشتہ ہفتے چین نے اہم معدنیات کی برآمد پر نئی پابندیاں عائد کیں جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا، جنہوں نے کہا کہ جواب میں وہ بیجنگ پر 100 فیصد نئے ٹیرف عائد کر دیں گے۔
یہ خبر جمعہ کو امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بند ہونے کے فوراً بعد موصول ہوئی جس کے بعد شیئرز کی قیمتیں گرتی گئیں کیونکہ سرمایہ کار تجارت کے دوبارہ شدید ہونے کے امکان کو ہضم کر رہے تھے۔
گزشتہ ہفتے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت جتنا خوف تھا اس سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، لیکن مطلوبہ معیار سے کمزور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف اب توقع کرتا ہے کہ عالمی معیشت اس سال اور آئندہ سال صرف معمولی حد تک سست ہوگی جس کی حمایت امریکہ اور کچھ دیگر ترقی یافتہ معیشتوں، ابھرتے ہوئے ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں بہتر از توقع حالات کر رہے ہیں۔
واشنگٹن میں سالانہ اجلاس آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوں گے جو وائٹ ہاؤس سے محض چند قدم کے فاصلے پر واقع ہیں۔
معیشت اور روزگار مرکزِ توجہ
ورلڈ بینک کی توجہ غالباً روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز رہے گی جس میں صدر اجے بانگا کئی پروگراموں میں حصہ لیں گے جو ان ممالک میں لیبر مارکیٹ میں شمولیت بڑھانے کے لیے منعقد کیے جارہے ہیں جہاں آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آئی ایم ایف اپنی روایتی 3 رپورٹس عالمی معیشت کی صحت، مالیاتی پالیسی اور عالمی مالی استحکام پر بات کرنے کیلئے پریس کانفرنسز کا انعقاد کرے گا۔
سالانہ اجلاسوں میں یوکرین پر بھی ایک اور راؤنڈ ٹیبل ہوگا، ایک ایسا ملک جو روسی حملے کے آغاز کے تین سال بعد بھی تقریباً روزانہ ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق یہ موقع ہوگا کہ یوکرین کی جاری معاونت اور اس کی تعمیر نو کے لیے ضروری اقدامات پر بات کی جائے۔
اسی دوران G7 ممالک کے مالیاتی وزراءکے اجلاس اور G20 گروپ کے اجلاس بھی ہوں گے جس میں امریکہ اور چین سمیت دنیا کی بڑی معیشتیں شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس اس بات پر قائم ہے کہ ٹیرفز کا طویل المدتی اثر امریکہ کے لیے مثبت ہوگا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اب تک ان کے اقتصادی اثرات نسبتاً کمزور رہے ہیں۔
























Comments
Comments are closed.