پاک افغان کشیدگی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا لگا، کے ایس ای 100 انڈیکس 4500 پوائنٹس گرگیا
- فروخت کا دباؤ بنیادی طور پر جغرافیائی سیاسی عوامل کا نتیجہ ہے، تجزیہ کار
پاک افغان سرحدی کشیدگی نے پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں دورانِ کاروبار 4,500 سے زائد پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
پورے سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ برقرار رہا، اور کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے دوران ایک موقع پر کم ترین سطح 157,678.01 پوائنٹس تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 158,443.42 پوائنٹس پر بند ہوا، یعنی اس میں 4,654.77 پوائنٹس یا 2.85 فیصد کی کمی ہوئی۔
ابتدائی گھنٹوں میں ہی فروخت کا دباؤ اہم شعبوں میں نمایاں رہا، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد ساز ادارے، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیز ، ریفائنری اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے شامل تھے۔
انڈیکس پر نمایاں حصص والے اسٹاکس، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایچ بی ایل اور یو بی ایل ، سب منفی زون میں بند ہوئے۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (ات ایچ ایل) سے وابستہثناء توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا ہے کہ “فروخت کے دباؤ کی بنیادی وجہ ویک اینڈ کے دوران پیش آنے والی جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور پاک افغان سرحدی کشیدگی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی اس وقت دباؤ کا شکار ہیں۔
جے ایس گلوبل کے ریسرچ ہیڈ وقاص غنی نے بھی اسی رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “مارکیٹ میں گراوٹ کی بنیادی وجہ پاک–افغان سرحدی کشیدگی کے بعد سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کا نتیجہ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ سرمایہ کار خاص طور پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اور حالیہ منافعوں کو سمیٹنے کے بعد محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں،۔”
آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب افغان سرزمین سے بلا اشتعال حملے کے بعد ہونے والی شدید جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بتایا ہے کہ لڑائی افغان طالبان جنگجوؤں اور ان سے وابستہ گروہوں، بشمول کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے کے بعد شروع ہوئی۔
گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں بیشتر شعبوں میں مندی، کاروباری حجم میں کمی اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی دیکھی گئی، جس سے کئی ہفتوں کی مسلسل تیزی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 3.5 فیصد کمی کے بعد 163,098.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے پیر کو غیر یقینی صورتحال کے ساتھ آغاز کیا۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں تازہ کشیدگی کے باعث مارکیٹس دباؤ میں رہیں، اگرچہ وال اسٹریٹ فیوچرز میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔
جاپان اور امریکہ میں تعطیل کے باعث ٹریڈنگ کا آغاز غیر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی اور یورپی اثاثوں کے حوالے سے سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر یکم نومبر سے 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم ویک اینڈ پر ان کا لہجہ قدرے نرم تھا، انہوں نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اور ہم چین کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔
بیجنگ نے بھی اتوار کو کہا کہ نایاب معدنیات اور متعلقہ سامان کی برآمدات پر پابندیاں امریکہ کے اقدامات کے ردعمل میں ہیں، تاہم اس نے امریکی مصنوعات پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا۔
دنیا کے کئی رہنما، بشمول وزیرِاعظم شہباز شریف، پیر کو مصر میں غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے پر بات چیت کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔
جاپانی مارکیٹس میں بھی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ برقرار رہا، کیونکہ ایل ڈی پی کی نئی رہنما سانائے تاکائچی کی بطور وزیرِاعظم تقرری مشکوک ہو گئی، جس کے نتیجے میں ین کی قدر میں اضافہ اور نکئی فیوچرز میں 5 فیصد کی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
پیر کے روز نکئی مارکیٹ بند رہی، تاہم فیوچرز 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 46,690 پوائنٹس پر ٹریڈ ہو رہے تھے، جو کہ جمعہ کے 48,088 پوائنٹس کے کیش کلوز سے اب بھی کافی نیچے تھا۔
جنوبی کوریا کے اسٹاکس میں 2.1 فیصد کمی جبکہ آسٹریلیا میں 0.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) میں 0.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

























Comments
Comments are closed.