فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی نئے توسیعی منصوبے شروع نہیں کرے گی کیونکہ سیرامکس کا شعبہ اس وقت سیچوریشن پوائنٹ پر پہنچ چکا ہے، جہاں مزید سرمایہ کاری سے شیئر ہولڈرز کے لیے مناسب منافع حاصل ہونا ممکن نہیں۔
یہ فیصلہ کمپنی کے بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی تفصیلات بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں بتائی گئیں۔
نوٹس کے مطابق فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 7 اکتوبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں موجودہ مارکیٹ حالات کے تناظر میں مستقبل کے توسیعی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ غور و خوض کے بعد بورڈ نے دیکھا کہ شعبہ سیرامکس میں اس وقت اتنی گنجائش باقی نہیں رہی کہ نئے منصوبوں پر سرمایہ کاری سے شیئر ہولڈرز کو مناسب منافع مل سکے۔
بورڈ نے اس فیصلے کے تحت نئے کاروباری یونٹ کے لیے زمین کی خریداری کا منصوبہ ختم کرنے اور 8 جنوری 2021 کے لینڈ سیل ایگریمنٹ کو واپس لینے کی منظوری دی۔ یہ معاہدہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے ساتھ میانوالی کے علاقے مسان داؤدخیل میں 1,031 کنال زمین کی خریداری کے لیے کیا گیا تھا، جس کی کل مالیت 1.13 ارب روپے تھی، اور اس کے بدلے میں 750.84 ملین روپے ایڈوانس ادا کیے گئے تھے۔
بورڈ کے مطابق، فریقین میں اتفاق ہوا ہے کہ 200 ملین روپے مئی 2026 تک واپس کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم جون 2026 کے بعد مزید مذاکرات کے ذریعے طے کی جائے گی۔
نوٹس میں بتایا گیا کہ کمپنی کے سی ای او نے معاہدہ واپس لینے پر معاوضے کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس پر بورڈ نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ شفاف اور منصفانہ تصفیے کے لیے مذاکرات کرے تاکہ کمپنی کے مالی اور اسٹریٹجک مفادات مکمل طور پر محفوظ رہیں۔
بورڈ نے اس فیصلے کو کمپنی کی شیئر ہولڈر ویلیو کے تحفظ، سرمایہ کے مؤثر استعمال، اور موجودہ آپریشنز کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔
علاوہ ازیں، کمپنی نے اعلان کیا کہ معاہدہ واپس لینے کی منظوری شیئر ہولڈرز سے آئندہ سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) میں حاصل کی جائے گی۔
فرنٹیئر سیرامکس لمیٹڈ کی بنیاد 1982 میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رکھی گئی تھی، جو وال اور فلور ٹائلز، سینیٹری ویئرز اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی تیاری اور فروخت میں مصروف ہے۔



















Comments
Comments are closed.