پنجاب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں ریشم کے شعبے (سیریکلچر) کی بحالی اور فروغ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں ،تاکہ ہر سال درآمد ہونے والے 112 ارب روپے کے ریشمی دھاگے پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ریشم کی افزائش پنجاب کے دیہی علاقوں میں ایک قدیم پیشہ رہا ہے، جس سے اس وقت 4 ہزار سے زائد گھرانے وابستہ ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ شہتوت کے پتوں پر پلنے والے ریشم کے کیڑے صوبے میں سال میں دو بار افزائش پاتے ہیں۔
پنجاب میں اس وقت صرف 400 ایکڑ پر شہتوت کے درخت موجود ہیں، جن میں سے 150 ایکڑ چھانگا مانگا اور 60 ایکڑ چیچہ وطنی میں ہیں۔ محکمہ جنگلات کی جانب سے خواتین کو پتیاں توڑنے کے پرمٹ جاری کیے جا رہے ہیں، جن سے وہ 40 کلو پتیاں 1,000 سے 5,000 روپے میں فروخت کر سکتی ہیں۔
سیریکلچر وِنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فاروق بھٹی کے مطابق اگر حکومت شہتوت کی شجرکاری، معیاری بیج کی دستیابی اور ریشم ریلنگ مشینیں فراہم کرے تو مقامی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
آل پنجاب سلک فارمر اینڈ ٹریڈر ایسوسی ایشن کے صدر رانا سعید انور نے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو آسان قرضے، بیج اور مشینری فراہم کی جائے ، تاکہ وہ مڈل مین پر انحصار کم کر کے براہِ راست دھاگہ تیار کر سکیں۔
























Comments
Comments are closed.