BR100 Decreased By (-0.54%)
BR30 Decreased By (-0.74%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.37%)
BAFL 56.47 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 24.75 Increased By ▲ 0.12 (0.49%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.80 Decreased By ▼ -0.18 (-1.39%)
DFML 18.19 Increased By ▲ 0.70 (4%)
DGKC 186.87 Decreased By ▼ -0.35 (-0.19%)
FABL 93.41 Decreased By ▼ -0.30 (-0.32%)
FCCL 51.18 Decreased By ▼ -0.47 (-0.91%)
FFL 14.40 Decreased By ▼ -0.09 (-0.62%)
GGL 18.84 Decreased By ▼ -0.20 (-1.05%)
HBL 301.98 Decreased By ▼ -1.80 (-0.59%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.83 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.07 Decreased By ▼ -0.10 (-0.38%)
MLCF 89.90 Decreased By ▼ -1.33 (-1.46%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 34.90 Decreased By ▼ -0.34 (-0.96%)
PIBTL 14.37 Decreased By ▼ -0.34 (-2.31%)
PIOC 236.00 Decreased By ▼ -3.62 (-1.51%)
PPL 219.15 Decreased By ▼ -2.21 (-1%)
PRL 91.60 Increased By ▲ 0.38 (0.42%)
SNGP 90.76 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
SSGC 23.37 Increased By ▲ 0.07 (0.3%)
TELE 7.47 Decreased By ▼ -0.14 (-1.84%)
TPLP 12.14 Decreased By ▼ -0.42 (-3.34%)
TRG 55.20 Decreased By ▼ -0.59 (-1.06%)
UNITY 7.94 Decreased By ▼ -0.08 (-1%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

پنجاب فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں ریشم کے شعبے (سیریکلچر) کی بحالی اور فروغ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں ،تاکہ ہر سال درآمد ہونے والے 112 ارب روپے کے ریشمی دھاگے پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ریشم کی افزائش پنجاب کے دیہی علاقوں میں ایک قدیم پیشہ رہا ہے، جس سے اس وقت 4 ہزار سے زائد گھرانے وابستہ ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ شہتوت کے پتوں پر پلنے والے ریشم کے کیڑے صوبے میں سال میں دو بار افزائش پاتے ہیں۔

پنجاب میں اس وقت صرف 400 ایکڑ پر شہتوت کے درخت موجود ہیں، جن میں سے 150 ایکڑ چھانگا مانگا اور 60 ایکڑ چیچہ وطنی میں ہیں۔ محکمہ جنگلات کی جانب سے خواتین کو پتیاں توڑنے کے پرمٹ جاری کیے جا رہے ہیں، جن سے وہ 40 کلو پتیاں 1,000 سے 5,000 روپے میں فروخت کر سکتی ہیں۔

سیریکلچر وِنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فاروق بھٹی کے مطابق اگر حکومت شہتوت کی شجرکاری، معیاری بیج کی دستیابی اور ریشم ریلنگ مشینیں فراہم کرے تو مقامی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

آل پنجاب سلک فارمر اینڈ ٹریڈر ایسوسی ایشن کے صدر رانا سعید انور نے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو آسان قرضے، بیج اور مشینری فراہم کی جائے ، تاکہ وہ مڈل مین پر انحصار کم کر کے براہِ راست دھاگہ تیار کر سکیں۔

Comments

Comments are closed.